ماه نامه اپریل ۱۹۹۳ء
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۵۷
میرے اس یقین کی وجہ یہ تھی کہ اس دنیا میں ہر تخریب کا ایک خاتمہ (end) ہے۔ جب کوئی تحریبی تحریک اپنا آخری واقعہ کر ڈالے تو اس کے بعد خود اس کا بھی آخری وقت آ جاتا ہے۔ انسانی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔
اسی طرح ایک مسئلہ اُس تحریک کا ہے جس کو عام طور پر ثقافتی قومیت (culturalism nationalism) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ملک کے موجودہ کمپوزٹ کلچر (مشترک کلچر) کو بدل کر اس کو واحد انڈین کلچر کے روپ میں ڈھالیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح وہ ملک میں سماجی ایکتا پیدا کر سکتے ہیں۔
ملک کے سنجیدہ لوگ اس تحریک کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ کسی ملک کے موجودہ کلچر ل ڈھانچہ کو بدل کر نئے ڈھانچہ کا کلچر بنانا ایک نیا جھگڑا پیدا کرنا ہے۔ اس سے سماجی ایکتا ٹوٹتی ہے۔ اس طرح کی کسی کوشش سے کبھی سماجی ایکتا آنے والی نہیں۔
مگر مجھے اس تحریک میں کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ فطرت سے لڑنا چاہتے ہیں اور فطرت سے لڑنے والے لوگ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ وہ اس دنیا میں کبھی اپنے نقشہ کو قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
جو لوگ ملک کے کمپوزٹ کلچر کو بدلنے کی بات کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ کلچر ہمیشہ کمپوزٹ ہی ہوتا ہے حتی کہ خود وہ لوگ اگر بالفرض "انڈین کلچر کے نام سے کوئی نیا کلچر رائج کر سکیں تو وہ بھی ایک کمپوزٹ کلچر ہی ہوگا۔ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ کسی ملک کا کلچر کبھی کسی دفتر میں یا کسی جلسہ گاہ میں نہیں بنتا وہ ہمیشہ لمبے سماجی عمل کے دوران بنتا ہے۔ کلچر ہمیشہ تاریخی پر اس کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ کسی پولیٹیکل رزویشن کا نتیجہ۔ میں کلچرل نیشنلزم یا یونی کلچر لزم کے نعرہ کو فطرت کے قوانین کے خلاف سمجھتا ہوں۔ اور جو چیز فطرت کے قانون کے خلاف ہو اس کو ظہور میں لانے پر نہ کوئی پاور قادر ہے اور نہ کوئی سپر پاور۔ مزید یہ کہ یونی کلچر کی بات تنگ نظری کی بات ہے اور ملٹی کلچر کی بات وسعت نظری کی بات۔ مجھے یقین نہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ اتنے زیادہ نادان ہو سکتے ہیں کہ وہ وسعت نظری کے مقابلہ میں تنگ نظری کو ترجیح دیں۔
نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ۲۴ جولائی ۱۹۹۳ء کو ایک میٹنگ تھی۔ یہ میٹنگ ٹائمس آف انڈیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues