ہندوتو کے بارے میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سا ہندو ہے جو ہند وازم یا ہندو کلچر کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں "ہندو" کے علم برداروں کو پہلے خود ہندوؤں کے اوپر اپنا بلڈوزر چلا کر انہیں ایک کلچر یا یکساں کلچر کا نمونہ بنانا چاہیے۔ اس کے بعد غیر ہندو فرقوں سے یہ مانگ کرنا چاہیے کہ وہ اس "ماڈل ہندو" کی پیروی کریں۔ اور اپنے کلچر کو اس کے مطابق بنائیں ۔
ہندو تو کے علم برداروں کو پہلے یہ کرنا ہے کہ ہندو کلچر کے ناقابل شمار اختلافات کو ختم کر کے اس کو ایک واحد اور یکساں کلچر بنائیں تاکہ دوسرے فرقوں کے لیے مطلوب یکساں کلچر کا ایک واضح اور متعین ماڈل سامنے آجائے اور لوگوں کے لیے اس کی پیروی قابل عمل ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں مسٹر گری لال جین کے الفاظ خود ہندو فرقہ پر زیادہ بڑے پیمانہ پر صادق آتے ہیں۔ ہندو فرقہ خود ایک بہت بڑا ہیومن زو ہے۔ اپنے موجودہ تنوعات کے ساتھ ہندو فرقہ کے لیے یکساں کلچر کا نمونہ بنانا ممکن نہیں۔ وہ تنوع کلچر (composite culture) کا ماڈل یقیناً ہے مگر وہ یکساں کلچر کا ماڈل ہر گز نہیں۔
ہندو تو کی اس کمزوری کا اعتراف خود ہند و تو کے علم برداروں کو بھی کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہندو کی مشترک تعریف کے لیے کوئی واضح بنیاد موجودہ حالت میں موجود نہیں۔ کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ، عمومی اعتبار سے، سب سے پہلے ایک ذات سے تعلق رکھتا ہے، اس کے بعد ہی وہ ہندو برادری کا حصہ بنتا ہے :
A Hindu, generally speaking, belongs to a caste before he belongs to the Hindu fraternity. مسٹر گری لال جین (۱۹۹۳ - ۱۹۲۲) نے اپنے ایک مفصل مضمون میں لکھا تھا کہ ہندو قومیت کی دو قسمیں ہیں ، منفی اور مثبت ۔ منفی ہندو قومیت درجات کے فرق کے ساتھ محض مسلم مخالفت جذبہ پر قائم ہے۔ مثبت ہندو قومیت کا تعلق ایک ہندو تشخص کے لیے اپیل کرنے پر ہے۔ مگر چوں کہ تشخص ہندوؤں کے درمیان داخلی یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے غیر واقعی ہے اس لیے مثبت ہندو قومیت وجود میں آنے کے قابل نہیں۔ اس طرح جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues