ہندوتو کے بارے میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱
There are two types of Hindu communalism: negative and positive. Negative Hindu communalism consists in being merely anti-Muslim in varying de- grees: positive Hindu communalism consists in appealing in the name of a Hindu identity. But since this identity is very shadowy due to Hindu's lack of internal homogeneity, positive Hindu communalism is not viable. Thus what is possible is not desirable and what is desirable is not possible. (The Times of India, New Delhi, July اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند تو خود اپنے اندرونی مسائل میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اس کے لیے بیرونی خطرہ بننا تقریباً ناممکن ہے۔ ہند تو بیرونی خطرہ صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ مسلمان جوش اور ہنگامہ والی سیاست سے اس کو اینٹی مسلم احساس پر کھڑے ہونے کا موقع دے دیں۔ اگر مسلمان ٹکراؤ سے اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں تو ہند تو اپنے قیام کی واحد بنیاد سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس کا جو انجام ہو گا اس کو لفظوں میں بتانے کی ضرورت نہیں۔
زندگی کا ایک محکم اصول یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بے معنی نعرہ لگا رہے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان نعروں کو نظر انداز کر کے یہ دیکھیں کہ تاریخ کی طاقتیں کس طرف جارہی ہیں۔ کیوں کہ زندگی میں بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ تاریخ کی طاقتیں ہیں نہ کہ کچھ غیر سنجیدہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ۔ اس سلسلہ میں میں امریکہ اور کناڈا کی مثال دوں گا۔ ان ملکوں میں بھی، انڈیا کی طرح، مختلف کلچر پائے جاتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کچھ انتہا پسند لیڈر اٹھے۔ انھوں نے مختلف کلچر کو ختم کر کے ایک کلچر بنانے کی تحریک چلائی۔ اس تحریک کو عام طور پر یونی کلچر ازم (uniculturalism) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ آخر کار انھیں ماننا پڑا کہ ان کے ملک کے لیے قابلِ عمل چیز صرف متنوع کلچریت (multiculturalism) ہے نہ کہ واحد کلچر۔
یہی واقعہ یقینی طور پر انڈیا میں بھی ہونے والا ہے۔ واحد کلچر کا نعرہ لگانے والے یہاں ناکام ہو کر رہ جائیں گے اور آخر کار جو چیز باقی رہے گی وہ مختلف اور متنوع کلچر کا اصول ہے جو ہزاروں سال سے اس ملک میں موجود تھا اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔ نئی دہلی میں ۲۵ جولائی ۱۹۹۲ کو ایک میٹنگ تھی۔ اس کی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا ۲۶ جولائی میں چھپ چکی ہے۔ یہاں مختلف ہندو دانش وروں نے تقریریں کیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues