تشخص کا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷
تشخص کا مسئلہ
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائئس (۲۴ مئی (۱۹۹۲) میں مسٹر و سن تھا پاتری (Vasantha R. Patri) کا ایک تجزیہ چھپا ہے۔ موضوع کے مطابق، اس کا عنوان ہے لاس اینجلیز کے فسادات، افسانہ بکھرگیا :
Los Angeles riots: Myth lies shattered
یہ مضمون امریکہ کے نسلی فسادات کے بارے میں ہے۔ اپریل مئی ۱۹۹۲ میں یہ فسادات اولاس اینجلیز میں ہوئے اور پھر کئی امریکی شہروں میں پھیل گئے۔ ان میں پچاس آدمی مرگئے ۔ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ کروڑوں روپیہ کی جائداد تباہ ہوئی، آخر کار فوج نے آکر ان کو دبا دیا۔ ۱۹۱۹ء میں امریکہ میں افریقہ کی سیاہ فام نسل کے لوگ بطور زرعی غلام کے لائے گئے تھے۔ یہ لوگ یہاں بس گئے۔ ان کی اولادیں ہوئیں، مگر امریکہ میں انھیں برابر کے شہری حقوق حاصل نہ ہوسکے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جو ایک تعلیم یافتہ نیگرو تھے، ان کی قیادت میں ۱۹۶۰ میں برابری کے حقوق حاصل کرنے کی تحریک چلی۔ اب اگر چہ قانونی طور پر امریکہ کی سیاہ فام نسل کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے ہیں، مگر عملاً یہ حق انھیں حاصل نہیں۔ چنانچہ ان کے درمیان مسلسل بے چینی موجود رہتی ہے۔ اسی کا ایک شدید اظہار پچھلے فساد میں اس وقت ہوا جب کہ لاس اینجلیز کے ایک سفید فام ڈرائیور نے ایک سیاہ فام ڈرائیور کو سڑک پر مارا۔ مضمون نگار نے اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہندوستان کے انتہا پسندوں کے لیے بھی بے حد قابل توجہ ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ برابر یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر سیاہ فام نسل کو سفید فام نسل میں شامل کرے جس میں ہر آدمی سفید فام امریکی نقشہ میں ڈھل جائے۔ مگر حالیہ فساد نے اس نقطہ نظر کی ناکامی کو ثابت کر دیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس نقطہ نظر میں تبدیلی پیدا کی جائے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ تہذیبی تنوع کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہی دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند جمہوریت میں یک جہتی لانے کی واحد ضمانت ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues