Al-Risala · April 1994 · page 26

مسلم مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶

کی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی جلسوں نے گرمی زیادہ پیدا کی ہے اور روشنی کم : Political activities of procession and public meeting have generated more heat than light. یہ الفاظ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست پر مکمل طور پر صادق آتے ہیں۔ یہاں کے مسلم لیڈروں نے ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک یہی کیا کہ وہ احتجاج اور ایجی ٹیشن کے اصول پر اپنی تحریکیں چلاتے رہے۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ان کی تحریکوں نے صرف باہمی ناخوش گواری میں اضافہ کیا۔ ان تحریکوں سے باہمی ہمدردی کا ماحول پیدا نہ ہوسکا۔

ان نام نہاد مسلم لیڈروں نے صرف یہ جانا کہ احتجاجی تحریک چلانا ان کا قانونی حق ہے۔ مگر وہ یہ جان نہ سکے کہ عملی صورت حال ان کے موافق نہیں ہے۔ چنانچہ اس منفی سیاست نے ان کو صرف نقصان پہنچایا۔ اس کے ذریعہ وہ کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ کرسکے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں اس قانونی حق کا استعمال مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکا کہ جو کچھ حاصل نہیں تھا، اس کو پانے کی کوشش میں جو حاصل تھا وہ بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ وہ جس طرح باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں اور وہاں کے حالات سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح وہ ہندوستان کے حالات سے موافقت کر کے رہنے لگیں۔ اس کے بعد انھیں اس ملک میں امن، عزت، حفاظت، سب کچھ اسی طرح مل جائے گا جس طرح وہ ان چیزوں کو باہر کے مسلم یا غیر مسلم ملکوں میں کامل طور پر پائے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page