Al-Risala · April 1994 · page 29

انفرادی تصویر ، مجموعی تصویر

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹

انفرادی تصویر ، مجموعی تصویر

ایک مسلمان تاجر نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا بزنس زیادہ تر ہندو صاحبان سے ہوتا ہے۔ وہ ڈیلنگ میں بہت اچھے ہیں۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں۔ یہ کسی ایک مسلمان کی بات نہیں۔ آپ جس مسلمان سے پوچھیں۔ وہ خواہ وکيل، ہو یا ڈاکٹر، دکان دار ہو یا کوئی ادارہ چلاتا ہو، ہر ایک اپنے ذاتی تجربہ کے اعتبار سے ہندو کو ہمیشہ اچھا بتائے گا۔

مگر انہیں مسلمانوں سے ہندوستان میں مسلم ملت کے مسائل پر بات کیجئے تو ہر مسلمان فوراً ہندو کی شکایت کرنے لگے گا۔ وہ کسی ایک یا دوسرے الفاظ میں کہے گا کہ ہندو متعصب ہے۔ ہندو فساد کرتا ہے۔ ہندو مسجد گراتا ہے۔ ہندو یہاں کے مسلمانوں کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ ایک ہی مسلمان کی رائے میں یہ فرق کیوں۔ کیا وجہ ہے کہ ہر مسلمان ایک اعتبار سے ہندو کی تعریف کرتا ہے، اور وہی مسلمان دوسرے اعتبار سے ہندو کو برا بتاتا ہے۔

اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ کوئی مسلمان جب ذاتی تجربہ کے اعتبار سے ہندو کے بارہ میں رائے دیتا ہے تو اس کے ذہن میں ہندو کی انفرادی تصویر (individual picture) ہوتی ہے۔ اور جب وہ ملی نقطہ نظر سے ہندو کے بارہ میں سوچتا ہے تو اس کے ذہن میں ہندو کی اجتماعی تصویر (collective picture) آجاتی ہے۔ انفرادی تصویر میں صرف ایک ہندو کا سلوک اس کے سامنے ہوتا ہے، اجتماعی تصویر میں تمام ہندوؤں کا عمومی سلوک اس کے سامنے آجاتا ہے۔ انفرادی تصویر میں ہندو اس کو ایک اچھا انسان دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ ہر انسانی گروہ کی طرح، ہندوؤں کی بھی ۹۵ فی صد تعداد اچھی ہی ہے۔ مگر اجتماعی تصویر میں بیک وقت پورا ہندو فرقہ مجموعی شکل میں اس کے سامنے آجاتا ہے۔ اس مجموعی تصویر میں اس کو کہیں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شہر سے فساد کا دھواں اٹھ رہا ہے۔ کہیں ایک مسجد گرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کہیں کوئی ہندو کسی مسلمان کے ساتھ تعصب کا معاملہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

یہی معاملہ برعکس صورت میں ہندو کا بھی ہے۔ کسی ہندو سے آپ بات کریں تو وہ انفرادی تعلق کے اعتبار سے مسلمان کی تعریف کرے گا۔ ہندو تاجر، ہندو ڈاکٹر، ہندو وکیل، ہندو کارخانہ دار اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page