Al-Risala · April 1994 · page 30

انفرادی تصویر ، مجموعی تصویر

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰

تجربہ میں آنے والے مسلمان کے بارہ میں ہمیشہ اچھے کلمات کہیں گے۔

مگر جب ہندو سے فرقہ وارانہ مسائل پر گفت گو ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ہندو فوراً مسلمان کا شاکی ہو گیا ہے۔ اب مسلمان اس کو ایسے گروہ کی صورت میں دکھائی دینے لگے گا جو ملک کے لیے صرف بوجھ ہو، اس سے ملک کو کوئی فائدہ ملنے والا نہ ہو۔

اس فرق کی وجہ بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ مسلمانوں میں بھی، دوسرے انسانی گروہوں کی طرح، زیادہ تر اچھے لوگ ہی ہیں۔ اس لیے مسلمان، انفرادی تجربہ میں، ہندو کو اچھا ہی دکھائی دیتا ہے۔ مگر کوئی ہندو جب مسلمانوں کی اجتماعی تصویر کو سامنے رکھ کر غور کرتا ہے تو اس کو نظر آتا ہے کہ مسلمان کہیں ہندووں کا جلوس روک رہے ہیں۔ کہیں کوئی مذہبی اشولے کر ہندووں سے لڑرہے ہیں۔ کہیں ہندووں کے راستہ میں رکاوٹ ڈالے ہوئے ہیں۔

اس طرح کے معاملات میں اگر چہ تھوڑے ہی مسلمان ملوث ہوتے ہیں مگر مجموعی تصویر میں ایسے واقعات پورے مسلم فرقہ سے منسوب ہو جاتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کی تصویر بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان جب ہندو کو برا کہتا ہے تو وہ جنرلائزیشن (generalization) کا شکار ہو رہا ہوتا ہے ۔ اسی طرح کوئی ہندو جب مسلمان کو برا سمجھتا ہے تو وہ بھی جنرلائزیشن کی بنا پر ایسا سمجھتا ہے۔ مسلمان اور ہندو دونوں اگر معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھ جائیں تو وہ ایسا نہیں کریں گے کہ ایک کی بنا پر سب کو برا سمجھنے لگیں۔ اور جب وہ ایسا کریں گے تو دونوں فرقوں کے درمیان تعلقات اپنے آپ درست ہو جائیں گے۔

زرتعاون الرسالة ہندوستان کے لیے بیرونی ممالک کے لیے (ہوائی ڈاک) (بحری ڈاک)

ایک سال Rs 70 ایک سال $20 / £10 $10 / £5 دو سال Rs 135 دو سال $35 / £18 $18 / £8 تین سال Rs 200 تین سال $50 / £25 $25 / £12 پانچ سال Rs 300 پانچ سال $80 / £40 $40 / £18

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page