Far-reaching steps to end communalism.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
کے ہر فرد کے اندر تعمیری شعور پیدا ک جائے ۔ جس دن ایسا ہو گا اسی دن ملک کے اندر وہ چیز بھی پیدا ہو جائے گی جس کو قومی یک جہتی کہا جاتا ہے ۔
اس نظریہ کی صحت کی ایک مثال خود ہمارے ملک میں موجود ہے ۔ ہندوستان میں عمومی سطح پر لٹریسی ، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴ء) کے بیان کے مطابق ۳۶ فیصد ہے۔ مگر جنوبی ہندوستان کی ایک ریاست کیرلا میں لٹریسی تقریبآ صدی تک پہنچ چکی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ بقیہ ہندوستان میں طرح طرح کے جھگڑے جاری رہتے ہیں۔ مگر کیرلا کی ریاست سماجی جھگڑوں سے تقریبا پاک ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ تعلیم کی کمی سے شعوری ناپختگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور تعلیم کا اضافہ لوگوں کے اندر شعوری بالیدگی پیدا کر دیتا ہے ۔ اور جہاں شعوری بالیدگی آجائے وہاں غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
تمام ترقی یافتہ ملکوں میں لازمی تعلیم کا اصول رائج ہے ۔ ہر ترقی یافتہ سماج میں گورنمنٹ اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ ہر شخص کو تعلیم یافتہ بنائے ۔ چنانچہ ان قوموں اور سماجوں میں ہر آدمی تعلیم یافتہ ہے ۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے ترقی یافتہ سماج اور پس ماندہ سماج میں وہ فرق پیدا کر رکھا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔
انڈیا میں ابھی لازمی تعلیم کے اصول کو رائج نہ کیا جا سکا۔ آزادی کے بعد دستور ہند میں اس سے کمتر درجہ میں ایک معیار طے کیا گیا تھا ۔ مگر اس کو بھی ابھی تک زیر عمل نہ لایا جا سکا ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے اس کو ان الفاظ میں ریکارڈ کیا ہے ــــ انڈیا یا اس دستوری ہدایت کو زیر عمل لانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ چھ سال سے چودہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے عمومی تعلیم کا انتظام کرے :
India has failed to carry out the constitutional directive of providing uni- versal education for children in the age group of six to 14. (6/394)
میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی سماج میں قومی یک جہتی پیدا نہ ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے ۔ ہمارا سماج تعلیم میں پچھڑا ہوا ہے ۔ اس لئے وہ شعور میں پچھڑا ہوا ہے ۔ اور جو قوم شعور میں پیچھے ہو جائے وہ سماجی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues