Al-Risala · April 1994 · page 34

ایک اور پہلو

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴

تعمیر میں بھی اسی نسبت سے پیچھے ہو جائے گی ۔

تاہم اس کام کو صرف حکومت پر چھوڑنا درست نہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ہندوستانی کو اس میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے ۔ ایک آدمی اگر صرف ایک آدمی کو پڑھا سکتا ہے تو وہ ایک آدمی کو پڑھائے ۔ ایک آدمی ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کر سکتا ہے تو وہ ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے ۔ کچھ لوگ اسکول اور کالج کھولنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اسکول اور کالج کھول کر نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست کریں ۔ غرض ہر آدمی اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے اس مہم میں شریک ہو جائے ۔ جب یہ تعلیمی مہم کامیاب ہوگی اور قوم صد فی صد تعلیم یافتہ ہو جائے گی تو اس وقت نہ صرف ملک میں قومی یک جہتی آچکی ہوگی بلکہ مزید تمام اوصاف کو حاصل کر کے ہمارا سماج ایک ترقی یافتہ سماج بن جائے گا جس کا ہم پچھلے پچاس سال سے انتظار کر رہے ہیں ۔

ایک اور پہلو

۳۰ برس کی کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں قومی ایکتا نہیں آئی ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ قومی ایکتا لانے کا جو طریقہ اپنایا گیا وہ درست نہ تھا۔

اس مدت میں ملک کے لیڈروں اور دانشوروں پر یہ خیال چھایا رہا ہے کہ " ایکتا " لانے کے لئے " انیکتا " کو ختم کرنا پڑے گا ۔ اسی ذہن کے تحت اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک میں سول میرج کا قانون نافذ کیا جائے ۔ تمام لوگوں کو ایک کلچر میں ڈھال دیا جائے ۔ جو لوگ زیادہ انتہا پسند ہیں وہ پرجوش طور پر کہتے ہیں کہ تمام لوگ رام کو اپنا پرورج مانیں ۔ تمام لوگ اپنے کو ہندو کہیں ۔ وغیرہ ۔ اُس کو یہ حضرات تہنید (Indianisation) کہتے ہیں ۔ مگر اس قسم کی یکسانیت عملاً نا ممکن ہے ۔ اس لئے وہ اب تک وقوع میں بھی نہ آسکی ۔

کناڈا قومی ایکتا کے لئے ایک مثالی ملک کی حیثیت رکھتا ہے ۔ حالاں کہ کناڈا میں اسی طرح مختلف مذہب اور تہذیب کے لوگ رہتے ہیں جس طرح ہندوستان میں ۔ کناڈا میں یہ قومی ایکتا جس طرح حاصل کی گئی ہے ، اس کو وہ لوگ کئی کلچریت (multiculturalism) کہتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے مختلف فرقوں میں ایکتا لانے کے لئے یکساں کلچر (uniculturalism) کی تحریک نہیں چلائی ۔ بلکہ وسیع تر قومی ڈھانچہ کے اندر ہر ایک کی جدا گانہ اکائی کو مان لیا ۔ اسی اصول پر چل کر کناڈا ترقی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page