Al-Risala · April 1994 · page 36

مسٹر نیکسٹ کا عظیم رول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶

مسٹر نیکسٹ کا عظیم رول

دو بھائی ہوں تو ان میں سے ایک بڑا ہوگا اور ایک چھوٹا ۔ دوسرے لفظوں میں، ایک مسٹر فرسٹ (Mr First) ہوگا اور دوسرا مسٹر نیکسٹ (Mr Next) اسی طرح ہر انسانی مجموعہ میں ہمیشہ کوئی مسٹر فرسٹ ہوتا ہے اور کوئی مسٹر نیکسٹ ۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون ہے۔ فطرت کے اس قانون کو ماننے ہی میں تمام ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

تمام انسانی سماجوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسٹر نیکسٹ اگر یہ حقیقت پسندی اختیار کرے کہ وہ فرسٹ پارٹی کے مقابلہ میں مسٹر نیکسٹ کی پوزیشن قبول کرنے پر راضی ہو جائے تو خاندان یا ادارہ یا ملک ترقی کرتا ہے۔ اور اگر مسٹر نیکسٹ اس اعتراف واقعہ پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد ترقی کا عمل بھی لازمی طور پر رک جائے گا۔ ظاہری تقسیم میں مسٹر نیکسٹ کی حیثیت اگرچہ نیکسٹ‘‘ ہوتی ہے مگر عملی اعتبار سے اس کا رول اتنا قطعی (crucial) ہے کہ ہر انسانی مجموعہ میں وہ کلیدی حیثیت کا حامل بن جاتا ہے۔ تاریخ سازی میں مسٹر نیکسٹ کا رول نہایت عظیم ہے۔

تاریخ کے تمام بڑے واقعات اسی وقت ظہور میں آئے ہیں جب کہ دو شریک پارٹیوں میں سے ایک پارٹی نے اجتماعی عمل میں مسٹر نیکسٹ بننا تسلیم کر لیا۔ اور جہاں ایسا نہیں ہوا وہاں یقینی طور پر کوئی بڑا واقعہ بھی ظہور میں نہ آسکا۔

تمام ترقیوں کا راز اس میں چھپا ہوا ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بھر پور طور پر زندگی کی تعمیر کے لیے استعمال ہوں۔ اور انسانی صلاحیتوں کے اس تعمیری استعمال کی صورت صرف یہ ہے کہ فطرت کی تقسیم میں جو مسٹر نیکسٹ ہے وہ مسٹر نیکسٹ کی حیثیت قبول کرنے پر بخوشی راضی ہو جائے۔ اس قبولیت کی حالت میں سماج کے اندر مثبت سرگرمیاں جنم لیتی ہیں اور عدم قبولیت کی حالت میں منفی سرگرمیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایک صورت میں اعلیٰ انسانی قدروں کی روایتیں قائم ہوتی ہیں اور دوسری صورت میں پست انسانی قدروں کا رواج ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ ایک صورت میں سماج مشترک جد و جہد کا نمونہ بنتا ہے اور دوسری صورت میں پورا سماج باہمی ٹکراؤ کا جنگل بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page