Al-Risala · April 1994 · page 35

ایک اور پہلو

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵

کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ترقی بھی اسی طرح ہوسکتی ہے کہ وہ اس آزمودہ طریقہ کو اپنے یہاں اختیار کر لے۔

۱۳ نومبر ۱۹۹۱ کو شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک اجتماع تھا۔ اس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ شولاپور کی ایک معروف شخصیت اور سابق ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس نقطہ نظر کی حمایت کی کہ اصل چیز موافقت اور رواداری کا مزاج ہے۔ اگر یہ مزاج ہو تو بڑے بڑے اختلاف کے باوجود باہمی میل ملاپ قائم ہو سکتا ہے۔

انھوں نے اپنے گھر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے اور میری ماں ویجیٹیرین تھی۔ اس کے باوجود دونوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میری ماں روزانہ صبح اٹھ کر نہاتیں اور میرے باپ کے لئے میٹ بنا کر اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں۔ اس کے بعد وہ دوبارہ نہاتیں اور اپنے لئے دال سبزی والا کھانا بناتیں۔ اسی طرح وہ آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے پینے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا اختلاف تھا۔ مگر دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خاندانی ایکتا ہو یا قومی ایکتا، ہر ایک کا تعلق ذہنی رویہ (mental attitude) سے ہے نہ کہ ظاہری یکسانیت سے۔ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک گھر کے اندر چند آدمی ہیں تو ان میں بھی طرح طرح کا اختلاف ہوگا۔ اس کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف کو گوارا کرنا ہے۔ اختلاف کو مٹانے کی کوشش اختلاف کو بڑھاتی ہے۔ جبکہ اختلاف کو گوارا کرنے کی پالیسی اختلاف کو عملاً ختم کر دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page