مساوی انصاف کا نظریہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
ہوئی نسلوں کے بارے میں ہمدرد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کا عقیدہ اس کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ یہی ہے۔ اس قسم کے مفروضات کی بنیاد پر وہ نظریہ نکلا جس کو ان کی اپنی غلطی (Their own fault) کہا جاتا ہے۔ یعنی جو لوگ کسی دوسرے کی طرف سے نابرابری کے سلوک کا تجربہ کر رہے ہیں وہ خود ان کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ گویا کہ ظلم مظلوم کی اپنی تقدیر ہے۔ اس کے لیے ظالم قصوروار نہیں (15/363) اسلام آیا تو اس نے مکمل طور پر اس قسم کے تمام نظریات کو منہدم کر دیا۔ اسلام نے مسلسل مختلف طریقوں سے یہ تصور پیش کیا کہ ظاہری فروق کے باوجود تمام انسان برابر ہیں۔ سب کو یکساں عزت اور انصاف کا حق حاصل ہے۔ کوئی انسان نہ کسی سے برتر ہے اور نہ کوئی انسان کسی سے کمتر ۔ یہاں اس سلسلہ میں دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے :
یا ایھا الناس انا خلقناكم من ذكر وانثی اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا۔ پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا ان اکرمكم عند الله اتقاكم۔ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے ان الله علیم خبير (الحجرات ۱۳) نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں رنگ اور نسل کا جو فرق ہے وہ تعارف کے لیے ہے نہ کہ امتیاز کے لیے ۔ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں ۔ ان میں امتیاز کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف کیر کٹر ہے۔ قابلِ عزت وہ ہے جو خدا پرست ہے ۔ جو خدا اور بندوں کے حقوق کو پہچانتا ہے اور ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیا۔ آپ ایام تشریق میں اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک بات یہ تھی : یا ایھا الناس ألا إن ربكم واحد اے لوگو سن لو، بے شک تمہارا رب ایک ہے اور وإن اباكم واحد ۔ ألا لافضل بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سن لو کہ کسی عربی کو کسی لعربی على عجمي، ولا لعجمي على عربي عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues