Al-Risala · January 1994 · page 19

مساوی انصاف کا نظریہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

(primitive stage) میں پڑے رہے۔

اس ارتقائی نظریہ کی بنا پر یورپی قوموں نے دوسری قوموں کو اپنے سے کمتر سمجھ لیا۔ اس کے نتیجہ میں سفید فام کی ذمہ داری (whiteman's burden) کا نظریہ پیدا ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سفید فام اقوام کو یہ حق ہے کہ وہ دنیا پر قبضہ کریں اور ان کے اوپر تہذیب کی معلم بنیں۔ موجودہ دور کے نو آبادیاتی نظام (colonialism) کے پیچھے یہی ارتقائی منطق کام کرتی رہی ہے۔

یہ تصورات کسی نہ کسی طور پر آج تک قائم ہیں۔ آج کی دنیا کو وسیع تقسیم میں دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ روایتی دنیا اور سائنٹفک دنیا۔ بظاہر ایک غیر ترقی یافتہ ہے اور دوسری ترقی یافتہ۔ مگر سماجی بے انصافی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ دونوں ہی ایسے عقائد پر مبنی ہیں جو سماجی انصاف کے راستہ میں مستقل رکاوٹ ہیں۔

روایتی دنیا بڑی حد تک "کرم" کا عقیدہ ماننے والوں کی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر آدمی جو پیدا ہوا ہے وہ پچھلے کرموں کا بوجھ لیے ہوئے ہے۔ یہ نیچر کا قانون ہے اور آدمی کو بہر حال اسے بھگتنا ہے۔ اس عقیدہ کی روشنی میں سماجی انصاف کا محرک بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس عقیدہ کے مطابق، جس چیز کو ہم "ناانصافی" کہتے ہیں وہ ناانصافی نہیں رہتی بلکہ وہ آدمی کے اوپر نیچر کا نافذ کردہ لازمی فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم اس کو اس کی ناپسندیدہ حالت سے نکال سکیں ۔ پھر انصاف کے قیام کا جذبہ آخر کیوں کر پیدا ہوگا۔

سائنٹفک دنیا اسی عقیدہ میں ایک اور سبب سے مبتلا ہے۔ یہ ارتقاء (evolution) کا نظریہ ہے۔ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ زندگی کی مختلف انواع (species) کی توجیہ کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس کو "فرق" کی توجیہ بھی کرنی پڑی۔ چنانچہ علماء ارتقاء نے یہ نظریہ بنایا کہ ارتقاء کے عمل میں کچھ انسانی گروہ آگے بڑھ گئے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ مثال کے طور پر عورت کے بارہ میں ڈارون کا کہنا ہے کہ وہ ارتقاء کے عمل کے دوران ابتدائی درجہ پر باقی رہ گئی۔ مرد آخر کار عورت کے اوپر فائق ہو گیا : Man has ultimately become superior to woman. افریقہ کے سیاہ فام یا بعض علاقوں کے پستہ قد لوگ وہ انسانی نسلیں ہیں جو ارتقائی عمل میں دوسروں سے پیچھے رہ گئیں۔ اس طرح سائنٹفک دنیا بھی، اپنے اس عقیدہ کے مطابق، مفروضہ پچھڑی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page