Al-Risala · April 1994 · page 38

مسٹر نیکسٹ کا عظیم رول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان کے نئے سیاسی نظام میں اپنے لیے مسٹر نیکسٹ کا رول منظور کر لیا۔ سردار پٹیل کی اسی حقیقت پسندی کا یہ نتیجہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں سیاسی عہدوں کی جنگ برپا نہیں ہوئی اور کسی رکاوٹ کے بغیر ملکی ترقی کا سفر شروع ہو گیا۔ سردار پٹیل اگر مسٹر نیکسٹ بننے پر راضی نہ ہوتے تو کبھی ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔

پاکستان میں بدقسمتی سے برعکس صورت پیش آئی۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان وجود میں آیا تو اس کے دو بڑے جغرافی حصے بنے۔ ایک موجودہ بنگلہ دیش اور دوسرا سابق مغربی پاکستان۔ تاریخی اور سیاسی اسباب نے مغربی پاکستان کے لیے مسٹر نیکسٹ کا رول لکھ دیا تھا اور بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کے لیے مقدر تھا کہ وہ نومولو د ریاست میں مسٹر نیکسٹ کا رول ادا کرے۔ لیکن بنگلہ دیش کو یہ پسند نہیں آیا کہ وہ مسٹر فرسٹ کی سیٹ پر بیٹھے۔ اس کا یہ اندوہناک نتیجہ نکلا کہ وجود میں آنے کے صرف ۲۴ سال بعد پاکستان کا "خداداد ملک" دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک طاقت ور ملک دو کمزور خطوں میں بٹ کر رہ گیا۔

تاہم پاکستان میں اعتراف واقعہ کی بھی ایک جزئی مثال موجود ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں تقریباً دو ملین ہندو باقی رہ گئے تھے۔ یہ ہندو وہاں کی مسلم اکثریت کے مقابلہ میں مسٹر فرسٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔ پاکستان کے ہندو نے ایک دن کی تاخیر کے بغیر اپنی وہ حیثیت تسلیم کر لی جو تاریخی حالات نے اس کے لیے مقدر کی تھی۔ اس کا نتیجہ اس کے حق میں شاندار نکلا۔ آج پاکستان میں یہ مسٹر فرسٹ وہاں کے مسٹر فرسٹ سے زیادہ محفوظ، زیادہ خوش حال اور زیادہ ترقی یافتہ زندگی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات خود پاکستان کے ایک سروے کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔ ہندو مسلم مسئلہ انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا معاملہ بھی اسی قانون فطرت کے تحت آتا ہے۔ اس قانونِ خداوندی کو ہمیں دل کی آمادگی کے ساتھ مان لینا ہے۔ اگر ہم اس کو نہ مانیں تو فطرت کا قانون تو نہ بدلے گا۔ البتہ ہم ابدی طور پر ایک تباہ شدہ گروہ بن کر رہ جائیں گے۔

انڈیا کے تاریخی، سماجی اور سیاسی حالات نے اس ملک میں ہندو کو مسٹر فرسٹ کی حیثیت دے دی ہے۔ اور مسلم فرقہ کے لیے یہ مقدر کر دیا ہے کہ کم از کم فی الحال وہ اس عظیم ہندوستانی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page