Al-Risala · April 1994 · page 39

مسٹر نیکسٹ کا عظیم رول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹

سماج کے اندر مسٹرنگسٹ کا رول ادا کرے۔ یہ فطرت کا فیصلہ ہے۔ اور فطرت کا فیصلہ خود خدا کا فیصلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو یہاں مسٹر نگسٹ کی پوزیشن کو اسی طرح تسلیم کرنا ہے جس طرح وہ دوسرے قوانین الہی کو اٹل سمجھ کر اسے تسلیم کرتے ہیں۔

حقیقت اپنی ذات میں حقیقت ہوتی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو حقیقت کو عزت کے ساتھ مان لے۔ کیوں کہ حقیقت کو اگر عزت کے ساتھ نہ مانا جائے تو آخر کار اسے ذلت کے ساتھ ماننا پڑے گا۔

ہندوستان کی آزادی پر نصف صدی پوری ہو رہی ہے۔ مگر اب تک ہندوستان وہ ترقی نہ کر سکا جو اپنے امکانات کے اعتبار سے اسے کرنا چاہیے تھا۔ اس المیہ کا واحد بڑا سبب اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کی نزاع ہے۔ دونوں کے درمیان یہ مسلسل نزاع اسی لیے قائم ہے کہ جو فرقہ مسٹر نگسٹ ہے وہ مسٹر نگسٹ بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔

انڈیا میں اور بھی کئی اقلیتیں ہیں۔ مگر مسلم گروہ یہاں مسٹر نگسٹ ہے ، کیوں کہ وہی نیکسٹ ٹو مجاریٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فرق کسی سازش کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اسی خالق کے منصوبے کے تحت ہے جو کسی کو پہلے بھائی کی حیثیت سے پیدا کرتا ہے اور کسی کو دوسرے بھائی کی حیثیت سے۔

مسلمان ابھی تک فطرت کے اس فیصلے کو قبول نہ کر سکے۔ پچھلے پچاس سال سے مسلمان یہاں کے ہندو کو رقیب کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان سے حریفانہ تعلق قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس تلخ صورت حال کا سبب ان کا یہی عدم اعتراف ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان خود بھی تباہ ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ملک کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اس معاملہ میں ان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب (choice) ہے۔ دوسرا کوئی انتخاب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ وہ واحد انتخاب یہ ہے کہ مسلمان حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے مسٹر نگسٹ کی پوزیشن قبول کرنے پر راضی ہو جائیں۔ یہی مسلمانوں کے اپنے مسئلہ کا حل بھی ہے اور یہی پورے ملک کے مسئلہ کا حل بھی۔

(Politics is the art of posible) سیاست ممکن کا فن ہے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page