Al-Risala · April 1994 · page 42

مستقبل کی طرف

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲

مستقبل کی طرف

۶ دسمبر ۱۹۹۲ کا دن ہندوستان کے لیے ایک زلزلہ خیز دن تھا جب کہ اجودھیا کی بابری مسجد کو ڈھانے کا واقعہ پیش آیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہمارا قومی سفر ایک ناقابل عبور دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔

اس وقت میں نے مسئلے کے حل کے لیے ایک قابل قبول فارمولا پیش کیا۔ یہ کوئی نئی چیز نہ تھی۔ یہ دراصل عبادت گاہوں کے موجودہ ایکٹ (Places of Worship Act 1991) ہی کا نئے الفاظ میں (formulation) تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پارلیمنٹ کے اس پاس شدہ قانون میں طے کیا گیا تھا کہ ملک کی تمام عبادت گاہوں کو ان کی ۱۵ اگست ، ۱۹۴۷ کی حالت (statusquo) پر برقرار رکھا جائے گا، باستثناء بابری مسجد (excluding Babri Masjid)۔ اب میں نے صرف یہ کیا کہ اس قانون کی اسپرٹ کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو ایک متعین فارمولا کی صورت دے دی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو مذکورہ قانونی استثناء (exclusion) وقوع میں آگیا۔ چنانچہ فارمولے میں یہ کہا گیا تھا کہ دیش کے عظیم تر انٹرسٹ کی خاطر دونوں فرقے مذکورہ ایکٹ کو لیٹر اینڈ اسپرٹ کے ساتھ مان لیں۔ دونوں فرقے اس پر راضی ہو جائیں کہ مسلمان بابری مسجد کے سوال پر چپ ہو جائیں گے۔ اور ہندو اس کے بعد بقیہ مسجدوں کے بارہ میں اپنی مانگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ ابتدا میں دونوں فریق یہ محسوس کر رہے تھے کہ اس فارمولا کو عمل کی صورت دینے میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں۔ مگر پچھلے ایک سال کے حالات نے ثابت کیا ہے کہ یہ اندیشے درست نہ تھے۔ واقعات کی رفتار پوری طرح اس تجویز کی موافقت میں ہے۔ اب ہم زیادہ بہتر طور پر اس پوزیشن میں ہیں کہ اس نزاع کو آخری طور پر فراموشی کے خانہ میں ڈال دیں۔ مذکورہ فارمولا جب سامنے آیا تو مسلمانوں کی طرف سے عام طور پر یہ کہا گیا کہ نزاع کے خاتمہ کے لیے ہم اس پر راضی ہو سکتے ہیں کہ ہم بابری مسجد کو بھلا دیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ دوسرا فریق تو اس کے بعد بھی بہت سی مسجدوں کی فہرست اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ مسلمانوں کے اردو پریس میں خاص طور پر اس واقعہ کو بہت زیادہ دہرایا گیا کہ ۶ دسمبر کو جو ہجوم بابری مسجد کو ڈھار ہا تھا وہ با آواز بلند

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page