حقائق کا فیصلہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱
کیوں کہ اہل عرب قریش کے سوا کسی اور کی سرداری قبول نہیں کرسکتے۔ ایسی حالت میں اگر کسی دوسرے قبیلہ کا آدمی خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے لوگ بغاوت کردیں گے۔ گویا اسلام کے عین دورِ اول میں خلیفہ کا انتخاب پریگیٹرم کی بنیاد پر کیا گیا نہ کہ آئیڈیلیزم کی بنیاد پر۔
آخری بات
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا یہ اعتراف خود خدا کا اعتراف یہ مسٹر نکسٹ‘‘ بننا انسان کے مقابلہ میں نہیں ہے بلکہ خدا کے مقابلہ میں ہے۔ کیوں کہ وہ خدا کے قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ خدا کی اطاعت کے ہم معنی ہے۔ اسی اطاعت میں خالق کائنات نے تمام انسانی ترقیوں کا راز رکھ دیا ہے۔ اسی میں ہماری دنیا کی ترقی بھی چھپی ہوئی ہے اور اسی میں ہماری آخرت کی ترقی بھی۔ واضح ہو کہ فرسٹ اور نکسٹ کے اس معاملہ کا تعلق صرف خارجی ڈھانچہ سے ہے نہ کہ کسی شخص یا گروہ کی واقعی حیثیت سے۔ یہ صرف ایک انتظامی بندوبست کا معاملہ ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تقسیم برائے ضرورت ہوتی ہے نہ کہ برائے فضیلت۔ اگر آدمی کی اپنی ذہنی سطح بلند ہو، اگر اس کے پاس فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ برتر آئیڈیالوجی ہو تو خارجی ڈھانچہ میں بظاہر مسٹر نکسٹ بننے کے باوجود وہ اپنی ذہنی سطح پر اپنے کو مقابلہ برتر محسوس کرے گا۔ محدود عملی سطح پر مسٹر نکسٹ بننے کے باوجود مستقل فکری سطح پر وہ برتر احساسات کے ساتھ جئے گا۔
فکری طاقت ہی زندگی میں ہمیشہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے ۔ مسٹر نکسٹ کو اگر نظریاتی برتری حاصل ہو تو باہمی تعامل کے دوران خود مسٹر فرسٹ اس کی برتری کو ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ حتی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وقتی نظام میں جو فریق مسٹر نکسٹ ہو وہ مستقبل میں مسٹر فرسٹ سے بھی زیادہ اونچا مقام پائے۔ اور جو فریق آج فرسٹ کے درجہ میں دکھائی دے رہا تھا وہ کل کی تاریخ میں سرے سے غیر مذکور ہو کر رہ جائے ۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہا ہے۔ لیکن بہت سے اول آخر ہو جائیں گے اور آخر اول :
But many that are first shall be last. And the last first. (St. Mark 10:31)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues