مستقبل کی طرف
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴
یہ نہیں کہ مسلمان بقیہ مسجدوں کے معاملہ میں ہندو کی طرف سے پوری طرح مطمئن نہ ہو جائیں ۔ اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ خود ساختہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مسلسل یہ مانگ کر رہا تھا کہ بابری مسجد کو دوبارہ وہیں بناؤ۔ یہ لوگ یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ سارے مسلمان ہند کے نمائندہ ہیں اور تمام مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس معاملہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہرگز مسلمانوں ہند کی خواہش کا ترجمان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کوشش کے باوجود یہ تنظیم اس عنوان پر ہندوستانی مسلمانوں کو دوبارہ متحرک (mobilize) نہ کر سکی جس طرح ۶ دسمبر سے پہلے کچھ تنظیمیں مسلمانوں کو اس عنوان پر متحرک کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ بابری مسجد کے نام پر ریلی اور مارچ کی سیاست کو مسلمان اسی طرح چھوڑ چکا ہے جس طرح ہندو مسجد ہٹاؤ مندر لاؤ کی سیاست کو۔
یہ بات پریس میں آچکی ہے کہ ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ بمبئی میں ہوئی۔ اس میٹنگ میں انھوں نے ملک کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو وہ ملک بھر کی مسجدوں میں بابری مسجد کی تعمیر نو کے لیے یوم دعا منائیں۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بابری مسجد کے ڈھائے جانے کا واقعہ ۶ دسمبر کو ہوا تھا۔ اسی لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبران ۶ دسمبر کو دہلی میں جمع ہوئے تاکہ وزیر اعظم ہند کی رہائش گاہ پر پہنچ کر انھیں میمورنڈم دیں۔ ایسی حالت میں یوم دعا کے لیے ۶ دسمبر کو چھوڑ کر ۲ دسمبر کی تاریخ آخر کیوں چنی گئی۔
اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ۲ دسمبر کو جمعہ (مسلمانوں کی ہفتہ وار اجتماعی عبادت) کا دن تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبروں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مسلمانوں کو اب بابری مسجد کی تعمیر نو سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ اور خاص اس کے لیے وہ ۶ دسمبر کو ہرگز ملک کی مسجدوں میں جمع ہونے والے نہیں ہیں۔ اس لیے انھوں نے فرضی مظاہرہ کے مقصد سے ۲ دسمبر کی تاریخ مقرر کی۔ کیوں کہ اس تاریخ کو جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے مسلمان اپنے آپ ہی مسجدوں میں اکٹھا ہوں گے۔ اور اس کو استعمال کرکے بورڈ کے ممبروں کو غلط طور پر یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ دیکھو، تمام ملک کے مسلمان اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔ اسی لیے تو ہماری کال پر انھوں نے ملک بھر کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues