مردان کار کی ضرورت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷
مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے طریقہ کو اختیار کر کے ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو سیاسی آزادی حاصل کرلی۔ مگر آج ہم محسوس کرتے ہیں کہ ان کا اصل مشن پورا نہیں ہوا۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ رونے والوں کے آنسو پونچھے نہ جاسکے۔ بلکہ آزادی کے بعد رونے والی آنکھوں میں کچھ اور آنکھوں کا اضافہ ہوگیا۔
آزادی کے بعد مہاتما گاندھی ایک اور اندولن چلانے والے تھے۔ یہ نئے ہندوستان کی تعمیر کا اندولن تھا۔ مگر وہ اپنے مشن کے دوسرے مرحلہ کو پورا نہ کر سکے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو دہلی میں ایک انتہا پسند نوجوان کی گولی نے قبل از وقت ان کا خاتمہ کر دیا۔
اب ہمیں ایک اور گاندھی کی ضرورت ہے۔ پہلے گاندھی نے ۱۹۴۷ء سے قبل تحریک آزادی کو تشدد کے راستہ سے ہٹا کر عدم تشدد کے راستہ پر ڈال دیا تھا۔ دوسرے گاندھی کو اسی قسم کی تبدیلی کا ایک زیادہ مشکل کام انجام دینا ہے۔ یہ کام ہے ۔ اہل ملک کے لیے ذاتی انٹرسٹ کے بجائے نیشنل انٹرسٹ کو سسپریم بنا دینا۔
آزادی کے بعد نئے ہندوستان کے بارہ میں ہمارا خواب پورا نہ ہو سکا۔ اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے قومی آزادی لوگوں کا مقصد تھا۔ آزادی کے بعد قومی انٹرسٹ کو لوگوں کا مقصد بن جانا چاہیے تھا۔ مگر عملًا یہ ہوا کہ اس کے بجائے ذاتی انٹرسٹ لوگوں کا نشانہ بن گیا۔ تعمیر خویش کی بڑھی ہوئی حرص میں تعمیر وطن کا کام انجام پانے سے رہ گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے اپنی نئی زندگی شروع کی۔ اور اسی کے بعد انڈیا نے بھی اپنی نئی زندگی شروع کی۔ آج جاپان اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ اس کو اقتصادی سپر پاور کہا جاتا ہے۔ جب کہ انڈیا مالی اقتصادی نقشہ میں سب سے نیچے جگہ پائے ہوئے ہے۔ اس فرق کا سبب دونوں کے مزاج کا فرق ہے۔ جاپانیوں کے نزدیک جاپان کا نیشنل انٹرسٹ پریم حیثیت رکھتا ہے اور ان کا ذاتی انٹرسٹ اس کے مقابلہ میں صرف سیکنڈری ہے۔ انڈیا میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ یہاں کے انسان کے لیے اس کا ذاتی انٹرسٹ اول بن گیا ہے اور نیشنل انٹرسٹ کی حیثیت صرف ثانوی ہو کر رہ گئی ہے۔
۱۹۴۷ء سے پہلے ملک کے سامنے سیاسی ڈھانچہ کی تبدیلی کا نشانہ تھا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ذہنی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues