Al-Risala · April 1994 · page 38

مردان کار کی ضرورت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

ھانچے کی تبدیلی کا نشانہ ہمارے سامنے ہے۔ پہلے مسئلہ کے مقابلہ میں دوسرا مسئلہ یقیناً زیادہ مشکل ہے۔ لیکن اگر جاپان اور دوسری ترقی یافتہ قوموں نے اس دوسری تبدیلی کے میدان میں کامیابی حاصل کر لی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس تبدیلی کو اپنے ملک میں لانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ آج انڈیا کو ایک نئے گاندھیائی آندولن کی ضرورت ہے جو انڈیا میں اس دوسری تبدیلی کو واقعہ بنا سکے۔ جو لوگوں کی سوچ کو بدلے۔ جو ذاتی انٹرسٹ پر چلنے والوں کو قوم کے انٹرسٹ پر چلنے والا بنا دے۔ یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے بالکل درست کہا ہے کہ کسی تہذیب نے اخلاقی اور روحانی احیاء کے بغیر کبھی ترقی نہیں کی : No civilization has flourished without a moral and spiritual renaissance. نئے انڈیا کی تعمیر بھی دوبارہ طریق عمل کی ایک تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں انڈیا کی قسمت آئی، انھوں نے نئے انڈیا کی تعمیر کے لیے جس نسخہ کا تجربہ کیا وہ ڈھانچہ (system) کی تبدیلی تھی۔ اب ہمیں اس کے بجائے فرد (individual) میں تبدیلی کو اپنا نشانہ بنانا ہے۔

پچھلے ۵۰ سال میں سماجی زندگی کے تمام شعبوں کو بار بار بدلا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں اتنے قوانین بنائے گئے ہیں کہ اب بنانے والوں کو بھی اس کی گنتی کا علم نہیں۔ مگر عملی حالات میں کوئی بھی بہتری نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ڈھانچہ کو آخر کار جو کنٹرول کرتا ہے وہ ایک انسان ہے۔ اور انسان کو بدلنے کا کام سرے سے ہمارے یہاں نہیں ہوا۔

انسان کو بدلنے سے مراد انسان کی سوچ کو بدلنا ہے۔ انسان کو صحیح رخ پر سوچنے والا بنانا ہے۔ مثلاً بابری مسجد کے معاملہ میں ہندو اور مسلمان دونوں غلط فکری کا شکار ہوئے۔ مسلم لیڈروں نے اس ایشو کو مقامی دائرے سے نکال کر آل انڈیا ایشو بنایا۔ اس طرح انھوں نے ایک سادہ اور چھوٹے ایشو کو بڑھا کر پوری اکثریتی کمیونٹی کے لیے پرستیج ایشو بنا کر اس کی پیچیدگی میں اضافہ کر دیا۔ دوسری طرف انتہا پسند ہندوؤں نے سمجھا کہ وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ تاریخ کی تصحیح کر سکیں۔ انھوں نے تاریخ کی تصحیح کے نام پر بابری مسجد کو ڈھادیا۔ مگر ڈ ڈھانے کے بعد انھیں معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page