Al-Risala · April 1994 · page 50

مردان کار کی ضرورت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۵۰

بڑے بڑے لیڈروں کے اس ماحول میں گاندھی جی بظاہر دیکھنے میں اتنے غیر اہم معلوم ہوتے تھے کہ اسٹیج پر ان کو دیکھ کر اسکول کے لڑکوں نے کہا: یہ گھاس کاٹنے والا کہاں سے آ گیا۔ تلک نے اس اجلاس میں مکمل سوراج کا رزولیوشن پیش کیا۔ دوسرا رزولیوشن گاندھی جی کا تھا۔ اس میں ڈومینین اسٹیٹس کی تجویز رکھی گئی تھی۔ تقریروں کے بعد ووٹنگ ہوئی تو تلک کو ۱۲۳ ووٹ ملے ۔ اس کے مقابلے میں گاندھی جی کو صرف چار ووٹ زیادہ ملے۔ ان کا رزولیوشن ،۱۲ ووٹ سے منظور ہوا۔ اس وقت گاندھی کی یہ جیت اتنی عجیب تھی کہ جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو لڑکوں نے نعرہ لگایا : وہ گھسیارا جیت گیا ، وہ گھسیارا جیت گیا۔

یہ دور غلامی کی بات ہے ۔ دورِ آزادی میں جو شخص گاندھی کا رول ادا کرنے کے لیے اٹھے گا اس کو مزید اضافے کے ساتھ ہائی پروفائل کا اسلوب چھوڑنا ہو گا اور آخری حد تک لو پروفائل کے اسلوب کو اختیار کرنا ہوگا۔ حتی کہ عین ممکن ہے کہ اس عمل کے دوران لوگوں کی نظر میں وہ مسٹر جیت کے بجائے مسٹر ہار بن جائے۔ اور اس کے بارہ میں اسکول کے لڑکے یہ نعرہ لگائیں : مسٹر جیت گھسیارا بن گئے ، مسٹر جیت گھسیارا بن گئے۔

انڈیا کی تعمیر نو کے لیے آج ایسے ہی مردانِ کار کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی لوگوں نے قوموں کا مستقبل بنایا ہے اور ایسے ہی لوگ ہوں گے جو انڈیا کا مستقبل تعمیر کریں گے۔ اَلرَّبَّانِيَّة حیاتِ بشری کا ربانی طریقہ ۔ صفحات ۲۲۴ کاروانِ ملت _ صفحات ۲۳۰

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page