Al-Risala · April 1994 · page 49

مردان کار کی ضرورت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

ہوا کہ وہ ماضی کی درستگی کے نام پر صرف حال کی بربادی کا کام انجام دے رہے تھے۔ نیا گاندھیائی رول اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ پہلا گاندھیائی رول ممکن تھا۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ پہلا گاندھی ہیرو ازم کی بنیاد پر اٹھا تھا، دوسرے گاندھی کو زیر و ازم کی بنیاد پر اٹھنے کا حوصلہ کرنا ہوگا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلا گاندھیائی رول بنیادی طور پر ایک سیاسی رول تھا جو غیر قوم کے خلاف ادا کیا گیا ، دوسرا گاندھیائی رول بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی رول ہے جس کو خود اپنی قوم کے اوپر ادا کرنا ہے۔ اور تاریخ کا اور خود گاندھی کا تجربہ بتاتا ہے کہ دوسروں کے خلاف بولنے والے کا استقبال پھولوں سے کیا جاتا ہے اور اپنوں کو مخاطب کرنے والے کا استقبال گولیوں سے۔

جو شخص آج دوسرے گاندھی کا رول ادا کرنے کے لیے اٹھے اس کو پیشہ ور سیاست دانوں (career politicians) کا طریقہ چھوڑ دینا ہوگا۔ وہ عوامی رجحان کے بجائے اصول کو اپنے سامنے رکھے گا۔ وہ اپنے فرقہ کے مفاد کے لیے بولنے کے بجائے قوم کے مفاد کے لیے بولے گا۔ وہ علاقائی خواہشات کے بجائے ملک کی وسیع تر مصلحتوں کو اپنا نشانہ بنائے گا۔ وہ ذاتی خوش نامی کو نظر انداز کر کے سچائی کا اعلان کرے گا۔ وہ وقتی تقاضوں کے بجائے مستقبل کے تقاضوں کو اہمیت دے گا۔

یہ چیزیں اس کو ہیرو شخصیت کے بجائے زیرو شخصیت بنا دیں گی۔ مگر دوسرا گاندھی بننے کی یہی واحد قیمت ہے اور جب تک ایسے حوصلہ مند افراد نہ اٹھیں دوسرے گاندھیائی کردار کی ادائیگی بھی اس دیش میں ممکن نہیں۔

مہاتما گاندھی ۱۹۱۹ میں کانگریس پارٹی میں شریک ہوئے۔ اس وقت انڈیا کی سیاست پر بال گنگا دھر تلک چھائے ہوئے تھے۔ تلک ہائی پروفائل میں بولنا پسند کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی ہمیشہ لو پروفائل میں بولتے تھے۔

۱۱ اگست ۱۹۳۷ کو میری ملاقات نئی دہلی میں پرنسپل نرنجن سنگھ سے ہوئی تھی۔ وہ ۱۹۱۹ کے اس امرت سر اجلاس میں موجود تھے جس میں مہاتما گاندھی شریک ہوئے۔ نرنجن سنگھ نے مجھے بتایا کہ کانگریس کے اس تاریخی اجلاس میں تلک ، موتی لال ، اینی بسنٹ، محمد علی جناح وغیرہ موجود تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page