قدر دانی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۶
قدر دانی
قرآن کی سورہ محمد (آیت ۲۴) میں کہا گیا ہے کہ کیا یہ منافقین قرآن پر تدبر نہیں کرتے ، یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ اس آیت کے ذیل میں تفسیروں میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ تلا ہشام بن عروة اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں۔ انھوں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومًا أَفَلا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز یہ آیت يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا تلاوت فرمائی کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے فَقَالَ شَابٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ بَلْ عَلَيْهَا دلوں پر اس کے تالے ہیں) یہ سن کر یمن کے ایک نوجوان أَقْفَالُهَا حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى يَفْتَحُهَا نے کہا ہاں ، ان کے دلوں پر تالے ہیں، یہاں تک کہ أَوْ يَفْرِجُهَا فَمَا زَالَ الشَّابُّ فِي خدا ہی ان تالوں کو کھول دے۔ اس نوجوان کی یاد نَفْسِ عُمَرَ حَتَّى وَلَّى فَاسْتَعَانَ بِهِ برابر حضرت عمر کے دل میں رہی یہاں تک کہ جب (تفسیر ابن کثیر ۱۸۰/۴) وہ خلیفہ ہوئے تو انھوں نے اس سے حکومت کے کام میں مدد لی۔
اسی صفت کا نام قدردانی ہے۔ کسی قوم یا کسی حکومت کا نظام اچھا رہنے کی ایک ضمانت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار لوگ افراد کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کی قدر دانی کریں، وہ ایسے افراد کو ان کی صلاحیت کی نسبت سے کام کے مواقع فراہم کریں۔ ایسے کسی فرد کو وہ جہاں پائیں اس کو اس طرح اٹھا لیں جس طرح ایک جو ہری راکھ میں پڑے ہوئے سونے کے ٹکڑے کو اٹھا لیتا ہے۔
اس کے برعکس جب ذمہ دار لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ افراد کو اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ میرا رشتہ دار ہے یا اجنبی ہے۔ وہ میری تعریف کرتا ہے یا میرا ناقد ہے۔ وہ میرے گروہ سے تعلق رکھتا ہے یا میرے گروہ سے باہر کا آدمی ہے۔ وہ ہر معاملہ میں مجھ سے اتفاق رائے رکھتا ہے یا کسی معاملہ میں اس کی رائے مجھ سے مختلف ہے۔ کسی قوم یا کسی حکومتی نظام میں اول الذکر صفت والے اشخاص کا اختیار کے مناصب پر ہونا اس قوم یا حکومت کی ترقی کی ضمانت ہے۔ اس کے برعکس جس قوم یا حکومتی نظام میں ثانی الذکر صفت والے اشخاص اختیار کے مناصب پر قابض ہو جائیں، اس کو کوئی چیز تباہی اور بربادی سے بچانے والی نہیں۔