Al-Risala · May 1994 · page 7

دینی تعلیم کا مقصد

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۷

دینی تعلیم کا مقصد

حدیث میں آیا ہے کہ علم کو حاصل کرنا فرض ہے (ان طلب العلم فريضۃ) علم کی اسی اہمیت کی بنا پر اہل اسلام نے ہر دور میں دینی تعلیم ادارے قائم کیے۔ ان تعلیمی اداروں کی نوعیت کا ہے، اس کو بتانے کے لیے قرآن کی حسب ذیل آیت بلاشبہ ایک رہنما آیت ہے : وما كان المؤمنون لينفروا كافة، اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان کے سب کے سب نکل فلولا نفر من كل فرقة طائفة کھڑے ہوں، تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ لیتفقھوا في الدين ولينذروا قومهم میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون۔ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو (التوبہ ۱۲۲) آگاہ کرتا تا کہ وہ پر ہیز کرنے والے بنتے۔

القرطبی نے لکھا ہے کہ طلب علم کے وجوب کے لیے یہ آیت اصل کی حیثیت رکھتی ہے (هذه الآكية اصل فی وجوب طلب العلم)، اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم دین سے مراد حقیقته تفقه فی الدین ہے۔ تعلیم دین کو جانچنے کا قرآنی معیار صرف ایک ہے۔ اور وہ خود قرآن کے لفظ میں ، تفقه ہے۔

القرطبی نے ليتفقهوا کی تشریح يتبصروا کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی تفقه کا مطلب ہے بصیرت حاصل کرنا۔ الراغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ فقہ کا مطلب علم شاہد سے علم غائب تک پہنچنا ہے ، اس طرح فقہ زیادہ خاص ہے علم سے (الفقه هو التوصل الى علم غائب بعلم شاهد. فهو اخص من العلم) فقہ حاصل کیا کیا مطلب ہوتا ہے فہم حاصل کیا (فقهه اى فهمه۔ لسان العرب میں ہے کہ فقہ اصل میں فہم کو کہتے ہیں (الفقه فی الاصل الفهم) اس سے معلوم ہوا کہ دینی مدارس کا اصل نشانہ کیا ہونا چاہیے۔ وہ یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یہاں تعلیم و تربیت حاصل کر کے نکلیں وہ تفقه فی الدین کی صلاحیت کے حامل ہوں۔ تفقه سے مراد جزئیات دین کی مہارت نہیں ہے، بلکہ تفقه سے مراد اساسات دین میں فہم و بصیرت ہے۔ خاص طور پر یہ صلاحیت کہ آدمی ظاہری معلومات کے ذریعہ باطنی حقائق تک پہنچنے کے قابل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page