Be ready to deal with Pakistan
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴
مسافر تھے۔ جب مختلف ملکوں اور قومیتوں کے لوگ ایک امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوائے تو ایسا محسوس ہو کہ جیسے کہ وہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کے حکم کی عملی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ کیسا عجیب سبق ہے جو مسجد کے ماحول میں مسلمانوں کو دیا جاتا ہے۔ اگر یہ سبق مسلمانوں کی پوری زندگی میں شامل ہو جائے تو ان کے اندر عظیم انقلاب آجائے۔
نماز پڑھ کر باہر نکلا تو مسجد کے گیٹ پر ایک صاحب ملے۔ انھوں نے اپنا نام محمد ظفر عادل بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک سنگین مرض میں مبتلا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر جواب دینے لگے تھے۔ چنانچہ میرے اندر افسردگی (depression) کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ عین اس وقت اتفاق سے آپ کی کتاب "راز حیات" پڑھنے کو ملی۔ اس کو پڑھ کر میری حالت بالکل بدل گئی۔ میرے اندر نیا یقین جاگ اٹھا۔ جو کام دوا نہ کر سکی تھی وہ کام اس کتاب نے کر دیا۔
لاہور میں میرا قیام جناب کرامت شیخ کے یہاں تھا۔ شام کو یہاں مختلف اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ گیارہ بجے رات تک یہ مجلس جاری رہی۔ علمی انداز میں تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ پاکستان کا اقتصادی مرکز کراچی ہے۔ اسلام آباد اس کا سیاسی مرکز ہے۔ لاہور کو پاکستان کے علمی اور تمدنی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ لاہور اگرچہ قدیم شہر ہے۔ مگر اس کی قدیم تاریخ کے بارہ میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ غزنوی خاندان نے ۱۱۵۲ء میں اس کو اپنی راجدھانی بنایا۔ اس وقت سے وہ باقاعدہ طور پر تاریخ میں ذکر کیا جانے لگا۔ ۱۳۹۸ء میں اس کو تیمور کی فوجوں نے تباہ کر دیا تھا۔ مبارک شاہ نے ۱۴۲۲ء میں دوبارہ اس کو آباد کیا۔ ۱۴۵۱ء میں بہلول خاں لودی نے اس پر اپنی حکومت قائم کی۔
مغل حکمراں بابر کی فوجوں نے ۱۵۲۴ء میں اس پر قبضہ کر لیا، اور نگ زیب کی وفات (۱۷۰۷) کے بعد ۱۷۹۹ء میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر کے اس کو اپنی وسیع سلطنت کی راجدھانی قرار دیا۔ افغانی حکمراں شاہ زماں نے ۱۲ اپریل ۱۸۰۱ء کو اعلان کیا کہ وہ رنجیت سنگھ کو لاہور کا گورنر تسلیم کرتا ہے۔ مگر رنجیت سنگھ نے اس حیثیت کو قبول نہیں کیا اور "مہاراجہ پنجاب" ہونے کا اعلان کر دیا۔ ۴۹ ۱۸ سے لاہور انگریزوں کی ماتحتی میں آگیا، ۱۹۴۷ء سے وہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔