Be ready to deal with Pakistan
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳
کی قیمت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایرپورٹ پر دن کے وقت چہل پہل ہوتی ہے اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں رات کے وقت۔ ترقی یافتہ ملک اپنے شہریوں کی سہولت کے لئے رات کے وقت جہازوں کو اترنے یا روانہ ہونے کی اجازت نہیں دیتے ۔ جدید دنیا میں ترقی یافتہ ملک کا باشندہ ہر جگہ برتر حیثیت میں ہوتا ہے اور غیر ترقی یافتہ ملک کا باشندہ ہر جگہ کم تر حیثیت میں۔ دنیا میں جو تقسیم ترقی اور بے ترقی کی بنیاد پر ہے، آخرت میں وہ تقسیم مزید اضافہ کے ساتھ صالح اور غیر صالح کی بنیاد پر قائم ہو جائے گی۔ موجودہ دنیا کی تقسیم علامتی صورت میں آخرت میں پیش آنے والے واقعہ کا اعلان ہے۔ مگر اس اعلان کو سننے کے لئے وہ کان درکار ہیں جو خاموش آوازوں کو اسی طرح سنیں جس طرح کوئی شخص لاؤڈ اسپیکر کی چیخ کو سنتا ہے اور اس کو سمجھ لیتا ہے۔ ایرپورٹ کے اندر انتظار گاہ میں ٹیلیفون لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے "فری ٹیلیفون" میں نے اپنے یہاں کا نمبر ڈائل کیا۔ ہمارے دفتر کے ٹیلیفون پر گھنٹی بجنے لگی۔ "ہیلو" کے تبادلہ کے ساتھ اگلے لمحہ دفتر سے ربط قائم ہو گیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے "غائب" حیثیت رکھتے تھے، مگر ہم دونوں "حاضر" کی طرح باہم گفت گو کر رہے تھے۔
یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے۔ مگر جب بھی ایسا ہوتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ جس دنیا میں "انسان غائب" سے رابطہ قائم کرنا ممکن ہو، وہاں "خدائے غائب" سے رابطہ قائم کرنا کیوں ممکن نہ ہوگا۔ بلا شبہ یہ ممکن ہے : و لكن اكثر الناس لا يعلمون۔
۴۵ منٹ کی پرواز کے بعد جہاز لا ہور ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ پرواز اور لینڈنگ دونوں نہایت ہموار رہی۔ اندرونی سروس کا معیار بھی اچھا تھا۔ میں نے جب بھی پاکستان انٹر نیشنل سے سفر کیا ہے، اس کا معیار ہمیشہ اچھا پایا ہے۔ اس بار بھی مجھے ایسا ہی تجربہ ہوا۔
ہوائی اڈہ کے اندر عملہ کے ایک داتف کار آدمی نے میرا پاسپورٹ لے لیا اور رسمی کارروائیاں تیزی سے طے کرا دیں۔ باہر نکلے تو عین ہوائی اڈہ کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک سادہ اور خوبصورت مسجد تھی۔ ساتھیوں کی رائے ہوئی کہ نماز مغرب یہاں ادا کر لی جائے ۔ اس کے بعد شہر کے لئے روانہ ہوں۔ چنانچہ مغرب کی نماز اسی مسجد میں ادا کی گئی۔
مسجد کی بیرونی دیوار پر لکھا ہوا تھا : واعتصموا بحبل الله جميعاً۔ یہاں اکثر ہوائی