Al-Risala · May 1994 · page 16

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶

حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں میں اردو زبان کا تقریبا وہی درجہ ہے جو ہندوستان میں انگریزی کا ہے۔ لوگوں کی پڑھنے لکھنے کی زبان اردو ہے۔ ہر موضوع پر اعلیٰ کتابیں اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ معیاری قسم کے جرائد اردو زبان میں نکلتے ہیں۔ انھوں نے اردو زبان کو کمپیوٹر کی سطح پر لانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔ وغیرہ۔

پاکستان کے مسلمانوں میں ایک امتیازی خصوصیت پائی جاتی ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں میں نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اعلیٰ طبقہ کے بچے عام طور پر انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ اردو زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ہمارے یہاں علماء اور جدید مسلم نسل کے درمیان ایک لسانی بعد (لینگویج گیپ) پایا جاتا ہے اور وہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کو فارسی شاعر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے :

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

مگر پاکستان میں یہ صورت حال نہیں۔ وہاں اعلیٰ خاندان کے بچے بھی بخوبی طور پر اردو زبان جانتے ہیں۔ اس طرح ان کے اور علماء کے درمیان زبان کی دوری پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ بعض تجربات کی بنا پر میں نے محسوس کیا کہ خود علماء کے غیر حکیمانہ رویہ کی بنا پر یہاں کی نئی نسل علماء کے طبقہ سے زیادہ مانوس نہیں۔

میں جس کالونی میں ٹھہرا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ اس کی مسجد کے امام صاحب کے لئے مسجد کی طرف سے باقاعدہ رہائش گاہ دی گئی ہے۔ اتفاق سے امام صاحب نے صبح کے ناشتہ پر مدعو کیا۔ اس طرح ان کی رہائش گاہ کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ یہ ایک صاف ستھرا فلیٹ تھا۔ جس کا کرایہ لاہور کے معیار سے تقریبا چار ہزار روپیہ ماہوار ہوگا ۔ اس کے اندر بجلی اور پانی کا معقول انتظام تھا۔ ساتھ ہی ایک وسیع اور صاف ستھرا جدید طرز کا باورچی خانہ تھا۔ جس کے اندر گیس کا چولھا موجود تھا۔ اور گیس بھی سلنڈر کے بجائے پائپ کے ذریعہ آرہی تھی۔ اور یہ سب کچھ امام صاحب کے لئے بالکل فری تھا۔

اگرچہ پاکستان کے تمام ائمہ کا معیار یہی نہیں ہے۔ تاہم اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اور دل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page