Al-Risala · May 1994 · page 17

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷

سے دعا نکلی کہ کاش وہ دن آئے جب ہندو پاک کی تمام مسجدوں میں اسی طرح ائمہ کے لئے معقول تنخواہ اور صاف ستھری رہائش گاہ کا انتظام ہو۔ مساجد کے ائمہ کی حیثیت مسلم معاشرہ میں بے حد اہم ہے۔ مگر معاشی پستی کی وجہ سے ان کے اندر نہ اعلیٰ حوصلہ پیدا ہوتا اور نہ وہ اس قابل ہوتے کہ اعلیٰ سطح پر معاشرہ کی خدمت کر سکیں۔

لاہور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں قدیم ترین زمانہ سے درس قرآن کے سلسلے کثرت سے جاری رہے ہیں۔ لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن (ستمبر 1991ء) کے ایک مضمون میں ”لاہور کے درسِ قرآن کی تفصیل بتائی گئی تھی۔ اس کے مطابق، مولانا احمد علی صاحب غالباً پہلے شخص ہیں جنہوں نے 191ء میں شیر انوالہ دروازہ کی ایک مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا، یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔ مضمون کے مطابق، 1970ء میں لاہور شہر کے اندر ۳۰ مقامات پر قرآن کا درس جاری تھا۔ اس پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ قرآن کے فوائد حاصل کرنے کے لئے یہی کافی فہمیں ہے کہ قرآن کا درس مسجدوں میں جاری کر دیا جائے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کا درس اپنی صحیح صورت میں دیا جا رہا ہو۔ چوہدری غلام احمد پرویز بھی اپنی آخر عمر تک گلبرگ میں قرآن کا درس دیتے رہے۔ مگر تمام علماء کے نزدیک ان کا درس مفید نہ تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفہ کے مطابق یہ سمجھ لیا تھا کہ ”نظام ربوبیت“ قرآن فہمی کی روح ہے۔ وہ اپنے اسی فلسفہ کی روشنی میں قرآن کی تفسیر کیا کرتے تھے۔

ہر فکری کتاب کی طرح، قرآن کی بھی ایک شاہ کلید ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی اس شاہ کلید کے تعین میں غلطی نہ کرے۔ ورنہ وہ قرآن کو سمجھنے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ قرآن فہمی کی شاہ کلید کوئی فن، کوئی نظریہ یا کوئی علی نکتہ نہیں ہے، قرآن فہمی کی شاہ کلید تقویٰ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ شرط موجود ہو وہ قرآن کو سمجھے گا۔ اور جس آدمی کے اندر یہ بنیادی شرط نہ پائی جائے وہ دوسری تمام خصوصیات کے باوجود بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ قرآن کا ماہر ہو کر بھی قرآن نہی سے محروم رہے گا۔ اسی لئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کراچی (چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبد الرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انھوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انھوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انھیں ٹوکا اور کہا:

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page