Al-Risala · May 1994 · page 22

Large cabinet helps Nawaz Sharif survive.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲

جائزہ شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق، تقریباً چالیس حلقہ انتخاب میں واضح طور پر انتخابی دھاندلی کی گئی تھی۔

اس قسم کے مختلف واقعات سے مسٹر نواز شریف کی سیاسی حیثیت کمزور ہو رہی تھی۔ انھوں نے اس کا آسان حل یہ نکالا کہ مخالفین کو عہدے دے کر خاموش کر دیا۔ انھوں نے ۱۱ستمبر ۱۹۹۱ کو پاکستان کی مرکزی کابینہ میں توسیع کر کے ۲۹ نئے وزیروں کو اس میں شامل کر لیا۔ اس طرح اب ان کی کابینہ میں وزیروں کی مجموعی تعداد ۵۰ ہو گئی ہے۔

اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ کے انصار نے حکومتی عہدہ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ گویا اسلام کے دور اول میں حکومتی عہدہ چھوڑنے والوں نے اسلام کی تاریخ بنائی تھی، اب موجودہ زمانہ میں ایسے اسلام پسند ظاہر ہوئے ہیں جو حکومتی عہدوں پر قبضہ کر کے اسلام کی تاریخ بنانا چاہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ فرق جو ماضی اور حال کے درمیان پایا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے انگریزی اخبار مسلم نے ۳۵ سالہ مہاجر لیڈر الطاف حسین کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ میں نے اس انٹرویو کی وہ نقل دیکھی ہے جو دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (۱۲ مارچ ۱۹۸۸) نے صفحہ ۸ پر شائع کی تھی۔ اس انٹرویو کے مطابق مہاجر لیڈر (قائد تحریک) نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جو مسلمان ہجرت کر کے پاکستان گئے، ان کو اور ان کی اولاد کو پاکستان میں تیسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کو آج بھی برابر کے حقوق حاصل نہیں۔ یہاں کے قدیم باشندے ان کو خارجی سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے ان مہاجرین کو فرزندِ وطن کا درجہ نہیں دیا۔

مسٹر الطاف حسین کے الفاظ میں، پاکستان میں مہاجرین کو ملازمتوں کے معاملہ میں تحفظ حاصل نہیں ہے۔ وہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہاں ان کی کوئی شناخت نہیں۔ یہاں ہر شخص اپنے کو پٹھان پنجابی، سندھی، بلوچی کہتا ہے اور اردو بولنے والے مہاجران خانوں میں سے کسی خانہ میں نہیں آتے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی تمام پارٹیاں علاقائی پارٹیاں ہیں جو مذکورہ چار قومیتوں میں سے کسی ایک قومیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس بنا پر مہاجرین نے اپنی قومی تحریک شروع کی ہے تاکہ ان کو پانچویں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page