Al-Risala · May 1994 · page 24

Large cabinet helps Nawaz Sharif survive.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴

اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں کو حیات وکائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گردو پیش کی پوری دنیا ان کے لئے رزق ربانی کا دستر خوان بن جائے۔ مثال کے طور پر المنبر کے مذکورہ شمارہ میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ " یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے۔ " صفحہ ۲۲۔

یہ وہی واقعہ ہے جس کا ذکر الرسالہ نومبر ۱۹۹۰ (صفحہ ۲۷) میں کیا گیا ہے۔ الرسالہ میں سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا۔ دوسری طرف المنبر میں اس واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتا یا گیا ہے۔

الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے گا۔ مزید اس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، اور ہم کو چاہئے کہ ہم ان کو استعمال کریں۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیرو ورشپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازِ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لئے موجودہ اندازہ کلام کس طرح ناکافی ہے۔

ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اتنا زیادہ چرچا ہے۔ اس کے با وجود لوگوں میں حقیقی اسلامی اسپَرٹ پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کے سارے معاملے کو فخر کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی اسپرٹ تواضع کی اسپَرٹ کا نام ہے۔ اور یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ فخر کی باتیں کبھی تواضع کا مزاج پیدا نہیں کرتیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ایک ماہنامہ " ہمدرد صحت" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کا تازہ شمارہ ستمبر ۱۹۹۱ میں ایک مضمون " قرآن حکیم کی تکریم " کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ قرآن شریف کی تعظیم یہ بھی ہے کہ دورانِ تلاوت اس کے مضامین کے لحاظ سے قلب میں پیدا ہونے والی کیفیات اور تاثرات کا بھی اندازہ کیا جائے ۔ اگر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page