Al-Risala · May 1994 · page 25

Large cabinet helps Nawaz Sharif survive.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

ذکر عذاب پر خوف طاری نہ ہو، اگر جنت کی بشارت پر بشاشت پیدا نہ ہو، اگر عظمت وکبریائی کے ذکر سے دل مائل بہ سجود نہ ہو تو اس کی تکریم کا حق ادا نہیں ہوا (صفحہ ۶) یہ بات بظاہر درست ہے۔ مگر مضمون کے آخر میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہو جاتی ہے۔ آخر میں کہتے ہیں کہ : قرآن حکیم وہ دولتِ دارین ہے جس پر ہمیں فخر بھی کرنا چاہئے۔ اس امت کے لئے سب سے بڑا اشرف اور اس کے لئے سب سے بڑا سرمایہ افتخار قرآن شریف ہے (صفحہ ۱۱)

یہ انسانی نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن کو اگر آپ مسلمانوں کے سامنے فخر کی کتاب کی حیثیت سے پیش کریں اور اس کو ان کے لئے سرمایہ افتخار بتائیں تو اس کے بعد اس احساس کا ابھر نا ناممکن ہو جاتا ہے جو تمام اصلاحات کی جان ہے۔ یعنی خوفِ خدا۔ جس چیز کو آدمی اپنے لئے فخر کا سامان سمجھ لے اس کے تصور سے اس کے اندر ناز کی کیفیت تو ابھر سکتی ہے مگر اس کے تصور سے اس کے اندر احتسابِ خویش کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔

لاہور میں جو دینی حلقے ہیں ان میں سے ایک حلقہ وہ ہے جو مولانا جاوید احمد غامدی کی سربراہی میں قائم ہے۔ یہ سب کے سب نوجوان لوگ ہیں۔ ان کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ سب کے سب نہایت سنجیدہ ہیں۔ یہاں کے زمانہ قیام میں ان حضرات سے کئی بار انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کی سنجیدگی اور ان کے اسلامی ذوق کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے جو باتیں ہوئیں ان کو نقل کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایک چیز جس پر میں نے سب سے زیادہ زور دیا وہ دعوت ہے۔ میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ ایک لازمی فریضہ ہے جو ہر حال میں اسی طرح اہلِ اسلام پر عائد ہوتا ہے جس طرح کہ نماز، روزہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ نماز روزہ ہر ہر فرد پر فرض ہے اور دعوتِ الی اللہ کی حیثیت فرضِ کفایہ کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ اس کو ادا کر دیں تو پوری امت سے یہ فریضہ عملاً ساقط ہو جائے گا۔ ورنہ تمام امت ذمہ دار ٹھہرے گی۔ اس کام کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ مسلمان یا مسلمانوں کی پوری جماعت اصلاح یافتہ ہو جائے اس کے بعد اس کام کو انجام دیا جائے۔ دعوت سے مراد اسلام کی طرف دعوت ہے نہ کہ امت مسلمہ کی طرف دعوت۔ اس کا مطلب مدعو کو اس حقیقت واقعه سے خبردار کرنا ہے کہ وہ اس دنیا میں ۲۵ الرسائى ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page