سائنسی تصدیق
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴
کر دیتا ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ ابومسعود اپنے اور غلام کے درمیان فرق دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا اور طاقت ور سمجھ رہے تھے اور غلام کو چھوٹا اور کمزور۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حقیقت کی یاد دہانی کرائی تو ان کو معلوم ہوا کہ جہاں میں نے غلام کو کھڑا کر رکھا ہے وہیں میں خود بھی کھڑا ہوا ہوں کیونکہ اصل مقابلہ انسان اور انسان کا نہیں ہے بلکہ انسان اور خدا کا ہے۔ اور خدا کے مقابلہ میں میں بھی اتنا ہی چھوٹا ہوں جتنا چھوٹا کہ میں اپنے غلام کو سمجھ رہا ہوں۔ ایک اور دوسرے میں فرق کا احساس سماجی نا انصافی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک اور دوسرے کا فرق مٹ جائے تو اس کے بعد سماجی نا انصافی کا بھی لازمی طور پھر خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ظلم اور سماجی بے انصافی کے تمام واقعات انسانوں کے اندر نا برابری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ انسانوں میں بظاہر کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور، کوئی دولت مند ہوتا ہے اور کوئی غریب۔ اب طاقت ور اور دولت مند اپنے آپ کو کمزور اور غریب سے اونچا سمجھ لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اس کے اوپر جو دست درازی چاہوں کروں، وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ میری برتر حیثیت اس کے مقابلہ میں ہر دفاع کے لیے کافی ہے۔
مگر اسلام بتاتا ہے کہ ہر انسان کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ ہر قضیہ آخر کار خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ خدا تمام طاقت وروں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ کامل انصاف کے ساتھ ہر ایک کے اوپر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا اور پر کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ خدا کے فیصلہ کی زد میں آنے سے اپنے آپ کو بچا سکے۔
اس طرح ہر معاملہ انسان اور انسان کے درمیان کا معاملہ نہ ہو کر خدا اور انسان کے درمیان کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اور جب تقسیم خدا اور انسان کی ہو جائے تو کوئی بھی طاقت ور نہیں رہتا۔ ہر آدمی اپنے آپ کو اسی عجز کی حالت میں محسوس کرنے لگتا ہے جہاں اس سے پہلے وہ دوسرے کو فرض کیے ہوئے تھا۔
یہ بلاشبہ سماجی انصاف کا سب سے زیادہ طاقت ور محرک ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ احساس بیدار ہو جائے وہ کسی حال میں دوسرے کے اوپر نا انصافی کی جرات نہیں کر سکتا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں خدا کو نہ مانا جاتا ہو وہاں اس قسم کا چیک ممکن نہیں۔ خدا کو نہ ماننے کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues