Al-Risala · May 1994 · page 27

Large cabinet helps Nawaz Sharif survive.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷

نہیں، بدھ اور جین نہیں بلکہ ہنود۔ بروزن یہواد ہیں“ (صفحہ ۱۱)

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ سراسر غیر داعیانہ اندازِ کلام ہے۔ اگر ہم اپنے کو داعی اور دوسری قوموں کو مدعو سمجھیں تو ہم تمام قوموں کو انسان کی نظر سے دیکھیں گے اگر بالفرض کوئی قوم زیادتی کرے تو اس کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں گے جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔

عجیب بات ہے کہ اسی اخبار نوائے وقت ۲۴ ستمبر میں برطانویہ کی شہزادی ڈائ کی تقریر چھپی ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانی خاتون نے اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ دیا۔ جنھوں نے کہا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خدا سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اس کی تلاش میں جنگل میں گھومتے ہیں۔ لیکن میں اس شخص سے محبت کروں گا جو خدا تعالیٰ کی تمام انسانیت سے پیار کرتا ہے۔ لیڈی ڈائنا نے کہا کہ اس شعر کے الفاظ دل کی گہرائیوں تک اثر کرتے ہیں اور میں اس کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہوں ۔ (صفحہ ۶)

میں نے ایک صاحب سے اس خبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محبت اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتی ہے۔ دعوت کا سب سے بڑا ہتھیار محبت ہے۔ مگر اس دنیا میں محبت نام ہے یک طرفہ محبت کا۔ اس دنیا میں لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت پیش آتی ہے۔ ایک کو دوسرے کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص محبت کر سکتا ہے جو شکایتوں اور زیادتیوں کے باوجود لوگوں سے محبت کرنے کا حوصلہ کر سکے۔

کرامت شیخ صاحب (پیدائش ۱۹۳۶) آٹومیٹک بک بائنڈنگ کی مشین اپنے یہاں لگانا نا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے وہ لندن گئے۔ وہاں کی ایک کمپنی (Muller Martini) سے انھیں یہ مشین خریدنا تھا۔ کمپنی کے دفتر سے بات کر کے یہ طے ہو کہ اس کا نمائندہ کرامت شیخ صاحب کی قیام گاہ پر آئے گا اور ان کو ساتھ لے جا کر شوروم میں مذکورہ مشین دکھائے گا۔ طے شدہ وقت پر کمپنی کا ایک انگریز نمائندہ گاڑی لے کر آیا اور شیخ صاحب کو اپنے ساتھ لے گیا تاکہ انھیں مذکورہ مشین دکھائے۔ راستہ میں گفت گو کے دوران اسلام زیر بحث آیا۔ اس نے کہا کہ یہ کیسا مذہب اسلام ہے۔ ایک شوہر اپنی بیوی پر زبردستیاں کرتا ہے، وہ نسل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page