Long arms of Islam reach Huston.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۸
پریشان کرتا رہتا ہے ۔ مگر وہ عورت اپنے شوہر سے طلاق نہیں لے سکتی ۔
کرامت شیخ صاحب نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہے ۔ ایسی عورت طلاق لے سکتی ہے ۔ اسلام میں اس کی اجازت ہے ۔ یہ سن کر وہ مبہوت ہو گیا ۔ اس نے حیرانی کے ساتھ کہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ ہم تو سمجھے ہوئے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح گفتگو ہوتی رہی ۔ آخر میں اس نے کہا __ جناب ، آپ جیتے ، میں ہار گیا ۔
کرامت شیخ صاحب نے اپنا ذاتی تجربہ بتانے کے بعد کہا : موجودہ زمانہ میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کا پیغام دوسری قوموں تک پہنچایا ہی نہیں گیا ۔ اگر ہم صحیح طور پر اسلام کا پیغام جدید انسان تک پہنچائیں تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا کہ میں غلطی پر تھا ، تم حق پر ہو ۔ میں تمہارے دین کو قبول کرتا ہوں ۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں دعوتی کام شروع نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ مسلمان اپنی "غلطی" ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ مسلمانوں کو پہلے یہ ماننا ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں انھوں نے غلط تحریکیں چلائیں ، اس کے بعد ہی ان کے درمیان صحیح دعوتی تحریک ابھر سکتی ہے ۔
۲۱ ستمبر کو جناب مصطفی صادق (ایڈیٹر انچیف روزنامہ وفاق، سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بہت سے سبق آموز واقعات بتائے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۵ میں وہ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ امریکہ گئے تھے۔ وہاں ہیوسٹن کی لیڈی میرنے ضیاء الحق صاحب کے اعزاز میں ہوٹل (Inn on the park) میں پارٹی دی۔ جب لوگ میز کے گرد جمع ہو گئے تو امریکی میٹر نے کہا کہ آج ہمارا مہمان ایک ایسا شخص ہے جو شراب نہیں پیتا۔ اور جس کے مذہب میں شراب حرام ہے ۔ اس لئے ان کے احترام میں آج ہم نے یہاں شراب کا انتظام نہیں کیا ہے۔ مہمان حضرات اس کے لئے ہمیں معاف فرمائیں :
اگلے دن وہاں کے انگریزی اخبار ہیوسٹن ٹائمز (Huston Times) میں اس پارٹی کی خبر چھپی۔ اس خبر کی سرخی اخبار نے ان الفاظ میں قائم کی تھی __ اسلام کے لمبے بازو ہیوسٹن تک پہنچ گئے :