Long arms of Islam reach Huston.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
مسلمان اپنی غلطی کا احساس کریں اور دوبارہ دعوتی ڈیوٹی انجام دینے کی طرف پلٹ آئیں، اس کے علاوہ کسی بھی دوسری تدبیر سے یہ صورت حال ختم ہونے والی نہیں۔
لاہور کے زمانہ قیام میں ہر روز خطابات کا پرو گرام رہتا تھا۔ اس کی خبریں روزانہ اخباروں میں آتی رہیں۔ مگر اخباری رپورٹرچوں کہ خاص طرح کی زبان کے عادی ہو چکے ہیں، اس لئے بعض اوقات رپورٹنگ میں بڑی عجیب سی غلطیاں ہو ئیں۔ مثلاً روزنامہ وفاق (۲۴ ستمبر) میں ایک تقریر کی رپورٹنگ میں یہ درج تھا کہ " مولانا نے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نماز روزہ ترک کر دیا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو دین کی روح سے بیگانہ کیا جا رہا ہے (صفحہ) آجکل یہ مزاج ہے کہ ہر خرابی کا ذمہ دار حکومت کو بتا کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ اس لئے رپورٹر کی زبان پر " بیگانہ کیا جا رہا ہے " کا جملہ آگیا۔ حالاں کہ الرسالہ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میرا مسلک نہیں۔ میں نے اپنی بات " لازم " کے صیغہ میں کہی تھی، رپورٹر نے اس کو " متعدی " کے صیغہ میں تبدیل کر دیا۔
ایک صاحب نے صدام حسین اور ان کے پیدا کردہ خلیجی المیہ پر گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلم تاریخ میں اتنی بڑی نادانی کی کوئی اور مثال مشکل سے ملے گی۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت ہر جگہ بشمول پاکستان صدام حسین کی حامی بن گئی۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا جر أت مندانہ انداز اور اس کا امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنا ایسا واقعہ تھا جس نے تمام مسلمانوں کو مسحور کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہی مسلمانوں کی اصل کمزوری ہے۔ موجودہ مسلمان ایک الفاظ پسند قوم بن گئے ہیں۔ اور سیاسی لیڈر ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر الفاظ پسندی صرف زوال کی علامت ہے۔ امام مالک نے اپنی موطا میں قاسم بن محمد تابعی کا قول صحابہ کے بارے میں نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو قول پر کچھ بھی خوش نہیں ہوتے تھے (ادرکت الناس وما یعجبون بالقول)
زندہ لوگ ہمیشہ عمل کو اہمیت دیتے ہیں اور مردہ لوگ الفاظ کو۔ صحابہ کرام نہ زندہ لوگ تھے، اس لئے وہ عمل کو اہمیت دیتے تھے۔ موجودہ مسلمانوں میں زندگی نہیں۔ اس لئے وہ الفاظ کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ مسلمانوں کی یہی وہ کمزوری ہے