Long arms of Islam reach Huston.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
حقیقت یہ ہے ہندوستان کے کچھ نا اہل مسلم لیڈروں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ دونوں کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔
یہاں خطابات کے علاوہ روزانہ صبح و شام کثرت سے لوگ ملنے کے لئے آتے رہے اور ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال جاری رہا۔ چوں کہ میری گفتگو کا سب سے زیادہ ابھرا ہوا موضوع دعوت ہوتا تھا، اس لئے سوال و جواب بھی اکثر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی سے متعلق تھے۔ کچھ لوگوں نے میرے دعوتی نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا کام مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ دعوت کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم کو پہلے اپنے ملک میں اسلام کا نظام قائم کرنا ہے اس کے بعد قوموں کو اسلام کا مخاطب بنانا ہے۔ تیسرے صاحب نے کہا کہ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو درست کیا جائے۔ اس کے بعد دعوت وغیرہ کا کام کیا جائے۔ چوتھے صاحب نے کہا کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پہلے مسلم امہ کو تیار کریں، اس کے بعد یہ مسلم امہ دوسری قوموں پر دین کی گواہی کا کام انجام دے گی۔ وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتوں کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ انذار و تبشیر کا پیغمبرانہ کام ان کی لازمی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی عذر یا کسی بھی تاخیر کے بغیر انہیں اس کام کے لئے اٹھنا ہے۔ اور اپنی پوری طاقت کو خرچ کر کے اس کام کو انجام دینا ہے۔ اس کام کی فطری ترتیب یہ ہے کہ جن افراد کے اندر اس کا احساس پیدا ہو، وہ افراد اس کام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے دوسرے افراد بھی اٹھیں گے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آسکتا ہے کہ یہ کام اجتماعی سطح پر ہونے لگے۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں مسائل کے اندر گھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی کوشش انہیں مسائل سے نجات دلانے والی نظر نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی قوم کی سازش کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی اصل ڈیوٹی (دعوت الی اللہ) کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا معاملہ سید نایونس جیسا ہے۔ وہ دعوت کے محاذ سے ہٹ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اسی طرح مسلمانوں کو مسائل نے نگل رکھا ہے۔ یہ حالت صرف اس وقت ختم ہو گی جبکہ