Al-Risala · May 1994 · page 37

لاہور میں اجتماعی بروگرام

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۷

ٹائمس آف انڈیا (۳۰ ستمبر ۱۹۹۱) میں یہ خبردی گئی ہے کہ مولانا عبدالقادر آزاد کو کچھ لوگ نشانہ تنقید بنا رہے ہیں جنھوں نے شہزادی ڈائنا کو بادشاہی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ شہزادی ڈائنا جس وقت مسجد کے اندر داخل ہوئیں ان کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں، اور یہ اسلام کی رو سے جائز نہیں۔ مولانا عبدالقادر آزاد نے اس کے جواب میں کہا کہ اسلام کا یہ اصول مسلم عورتوں کے لئے ہے نہ کہ غیر مسلم عورتوں کے لئے۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے ایک وکیل کی معرفت کچھ لوگوں نے مولانا عبدالقادر آزاد کے خلاف ایک فوجداری کیس (criminal complaint) دائر کر دیا ہے۔ خبر میں یہ اشارہ ہے کہ اس کے پیچھے اصل میں سیاسی مقصد ہے۔ مولانا عبدالقادر آزاد وزیر اعظم نواز شریف سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ نواز شریف کے مخالفین اس واقعہ کو وزیر اعظم کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی یہ سیاست مسلمانوں میں بہت عام ہے۔ مگر وہ بہت بڑا گناہ ہے اور مسلمانوں کو آخری حد تک اس سے بچنا چاہئے ۔

لاہور کے ایک اخبار کے نمائندہ انٹرویو لینے کے لئے آئے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کے ہاتھ میں دہلی کا انگریزی ماہنامہ "مسلم انڈیا" تھا۔ میں نے کہا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اسی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہندوستان کا مسلمان اپنے ماہنامہ کا نام "مسلم انڈیا" رکھتا ہے اور برسوں سے اس کو نکال رہا ہے۔ مگر اس کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ اس کے برعکس پاکستان کے ہندو اگر "ہندو پاکستان" کے نام سے اپنا ماہنامہ نکالیں تو مجھے امید نہیں کہ یہاں وہ اس کو نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

میں نے کہا کہ ہندوستان میں ہم کو مکمل آزادی ہے۔ وہاں "ہندوستان میں اسلام کا غلبہ" (مومنٹ اگست ۱۹۹۱) کے عنوان سے مضامین چھپتے ہیں۔ حالاں کہ پاکستان میں ہندوؤں کے لئے ناممکن ہے کہ وہ "پاکستان میں ہندو ازم کا غلبہ" کے عنوان سے مضامین چھپائیں۔ لاہور کے ایک صاحب ہندوستان جاتے ہیں اور وہاں یہ تقریر کرتے ہیں کہ ہم آر مر اسٹرگل کے ذریعہ اسلامی انقلاب بر پا کریں گے۔ اور وہاں ان کی تقریر پر پابندی نہیں لگتی۔ حالاں کہ انڈیا سے ایک ہندو اگر یہاں تقریر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page