Al-Risala · May 1994 · page 38

لاہور میں اجتماعی بروگرام

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

کرے کہ ہم ہتھیاروں کے زور پر ہندو نظام قائم کریں گے ، تو ناممکن ہے کہ وہ یہاں اس قسم کی تقریر کر سکے ۔

انڈیا میں ۳ لاکھ مسجدیں ہیں ۔ ان مسجدوں میں اسی طرح لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہوتی ہے جس طرح پاکستان میں ہوتی ہے ۔ وہاں ہر شہر اور ہر بستی میں لاکھوں کی تعداد میں مدرسے قائم ہیں ۔ اور سب کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ مسلمان اسلام کے نام پر بڑے بڑے جلسے اور کانفرنسیں کرتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ انھوں نے کہا کہ ”مسلم انڈیا“ تو لکھتا ہے کہ مسلمان سرکاری ملازمتوں میں بہت کم ہیں ۔ میں نے کہا کہ مسلم انڈیا آدھی بات لکھتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان تعلیم میں دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے ہیں ۔ اور جب تعلیم میں پیچھے ہیں تو برسوں میں وہ برابری کا درجہ کس طرح پا سکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پھر ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کیوں ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اسی بنا پر جس بنا پر پاکستان میں مسلم مسلم فساد ہوتے ہیں ۔ دونوں کا سبب ایک ہی ہے ۔ اور وہ ہے صبر و اعراض نہ کرنا۔ مجھے اشتیاق تھا کہ لاہور کے اس تاریخی مقام کو دیکھوں جو ”مسجد شہید گنج“ کے نام سے مشہور ہے ۔ ۲۱ ستمبر کی شام کو جناب کرامت شیخ صاحب کے ساتھ اس کو دیکھا ۔ یہ مقام یہاں کے مشہور نو لکھا بازار میں واقع ہے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی نو لکھا بازار کی تنگ گلیوں میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ ہم نے گاڑی کو باہر سڑک پر چھوڑ دیا اور نو لکھا بازار میں داخل ہو کر پیدل روانہ ہوئے ۔ پر ہجوم گلی سے گزرتے ہوئے آخر کار ہم وہاں پہنچے جہاں مذکورہ عمارت واقع ہے ۔

وہاں پہنچ کر سب سے پہلا عجیب منظر جو دکھائی دیا وہ عمارت کے مقام داخلہ پر لگا ہوا بورڈ تھا اس بورڈ پر انگریزی اور اردو میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : گور دوارہ شہید گنج سنگھیاں ۔ گویا بورڈ کے اعتبار سے یہ عمارت مسجد نہیں ہے بلکہ گور دوارہ ہے۔

یہ مقام اس وقت پاکستان وقف بورڈ کے تحت ہے ۔ یہاں بورڈ کی طرف سے ایک صاحب چوکیدار کی حیثیت سے رہتے ہیں ۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اپنا نام عادل بادشاہ ۴۵ سال ) بتایا۔ انھوں نے کئی عبرت انگیز باتیں بتائیں ۔ انھوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے یہاں انڈیا کے ایک مسلمان آئے ۔ ان کی عمر تقریباً ۷۰ سال تھی ۔ وہ اندر داخل ہوئے تو صحن میں پہنچ کر بری طرح رونے لگے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ جب انگریز پولیس نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page