۲۹ ارسال مئی ۱۹۹۴
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹
مسلمانوں پر گولی چلائی تھی، اس وقت میں یہاں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے مسلمان یہاں جمع ہیں اور اندر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن انگریز پولیس نے ایک نشان کر دیا تھا کہ اس حد سے آگے کرئی نہ بڑھے۔ مسلمان نہایت جوش میں تھے۔ وہ بڑھ کر اس حد کو پار کرتے۔ میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان آگے بڑھا۔ پولیس نے گولی چلائی۔ اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ دوبارہ پولیس نے گولی چلائی۔ اور اس کی لاش وہیں گر پڑی۔ اس طرح بارہ آدمی بڑھے اور سب کے سب گولی کھا کر گرتے رہے۔ اس کے بعد مجھے دیکھنے کی تاب نہ رہی۔ میں وہاں سے ہٹ گیا۔ مجھے یہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا۔
خدا بخش لائبریری جرنل کے حوالہ سے ہفت روزہ نقیب (پٹنہ) کے شمارہ ۹ ستمبر 1991 میں ایک دستاویز شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب لنڈا بازار میں دو سو سال پہلے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو مسجد عبداللہ خاں کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کو لاہور کے کوتوال عبد اللہ خاں نے بنوایا تھا۔ سکھوں کی شورش کے زمانہ میں پنجاب کے مغل گورنر نے ان کی سرکوبی شروع کی۔ مسجد کے قریب ہی کو توالی میں سکھ مجرموں کو سزا دی جاتی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک سکھ لیسنڈر تار و سنگھ نہیں مارا گیا۔
اس کے بعد جب سکھوں کا راج آیا تو انھوں نے مسجد پر قبضہ کر لیا اور اس کے قریب تارو سنگھ کی یاد میں ایک سمادھی بنا دی ۔ جون ۱۹۳۵ میں سکھوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد عبد اللہ خاں (جو اب مسجد شہید گنج کہی جاتی تھی) کو ڈھاکو وہ میں گور دوارہ بنایا جائے۔ اس پر مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم رہنماؤں کا ایک وفد انگریز گورنر سے ملا لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اور برطانوی سنگینوں کی حفاظت میں سکھوں نے مسجد کو گرا دیا۔
اس پر مسلمانوں کا بہت بڑا جلوس نکلا جو اندرون شہر سے دہلی دروازہ کے باہر پہنچا۔ یہاں پولیس نے صف بندی کی ۔ مگر جلوس صف بندی کو توڑ کو آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد پولیس اور فوج کے ساتھ مسلمانوں کا خونیں تصادم شروع ہوا جو ۴۸ گھنٹے تک جاری رہا۔ دو دن کے اندر دس بار گولی چلی ۔ تیرہ نوجوان ہلاک ہو گئے اور سیکڑوں مسلمان زخمی ہوئے۔ گورنمنٹ نے مسجد کے انہدام سے پہلے ہی مسلمانوں کے لیڈر ظفر علی خاں وغیرہ کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیا تھا۔