۲۹ ارسال مئی ۱۹۹۴
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴
امیر العظیم صاحب (انچارج شعبہ اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان) بھی تھے۔ امیر العظیم صاحب کے ہاتھ میں ایک ”موبائل ٹیلیفون“ تھا۔ ٹیلی فون کا عام تصور یہ ہے کہ گھر یا آفس میں جہاں ٹیلی فون نصب ہو، وہیں سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر موبائل ٹیلی فون ایک چلتا پھرتا ذریعہ رابطہ ہے۔ چنانچہ امیر العظیم صاحب کے دستی ٹیلی فون پر کئی بار گھنٹی بجی۔ انھوں نے لاہور کے اندر اور لاہور کے باہر مختلف مقامات سے اس طرح گفتگو کی جیسے کہ دونوں پاس بیٹھے ہوئے ہوں۔ امیر العظیم صاحب نے کہا کہ پہلے مجھ سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ میں اپنے دفتر یا گھر میں موجود رہوں۔ اب میں خواہ جہاں بھی رہوں فوراً لوگوں کے ساتھ میرا رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔
یہ دیکھ کر مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تم سب کو لے آئیگا، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (البقرہ ۱۴۸) اللہ کے لئے پوری طرح ممکن ہے کہ وہ مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے انسانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کو اپنے پاس بلائے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کی ایجادات نے اس عقیدہ کو واقعاتی طور پر قابل فہم بنا دیا ہے۔ جہاز کے اندر داخل ہو کر میں اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا کہ جہاز کے عملہ کے ایک صاحب مسکراتے ہوئے میرے پاس آئے۔ ان کے ہاتھ میں لاہور کے اخبار وفاق (۲۶ ستمبر) کا شمارہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اخبار ”مولانا وحید الدین نمبر“ کے طور پر نکالا گیا ہے۔ اس کی تصویروں سے میں نے سمجھا کہ وہ آپ ہی ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: ”آپ بزرگ آدمی ہیں۔ خصوصی دعائیں کریں ہمارے لئے۔ بہت برا حال ہے ہمارا۔ ان کے چہرہ پر داڑھی تھی۔ انھوں نے اپنا نام اکرام اللہ بتایا۔ اکرام اللہ صاحب کا یہ جملہ سن کر میرے سامنے وہ مناظر گھومنے لگے جو لاہور میں میرے ساتھ گزرے تھے۔ ایک صاحب سے میری ملاقات کرائی گئی۔ وہ کرتا اور پاجا مہ پہنے ہوئے تھے۔ سر پر گول ٹوپی اور چہرہ پر داڑھی تھی۔ بظاہر وہ ایک مولوی معلوم ہوتے تھے۔ مگر تعارف کرانے والے نے بتایا کہ یہ ہمارے یہاں کے فلاں شعبہ کے ڈائرکٹر ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ کوئی چیف انجینئر تھا اور کوئی ڈاکٹر، کوئی پروفیسر تھا اور کوئی بہت بڑا تاجر۔ مگر اسی کے ساتھ دین دار اور اسلامی تشخص کو اپنائے ہوئے۔ اسی فہرست میں اکرام اللہ صاحب کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جب پاکستان میں ایسے قابل رشک دین دار موجود ہیں تو اکرام اللہ صاحب نے ایسا سہ سالہ مئی ۱۹۹۳