Al-Risala · May 1994 · page 49

الرساله کیسٹ ۔ ارکانِ اسلام سیٹ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

سارناتھ (بنارس) کے ادارہ سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ہائر تبتیٹسن اسٹڈیز : Central Institute of Higher Tibetan Studies میں ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو ایک انٹر ریلیجس ڈائیلاگ ہوا۔ اس کا موضوع تھا : Plurality of Religions in the Contemporary World اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ بعض وجہ سے وہ شریک نہ ہوسکے۔ تاہم اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر سے انہیں ایک پیپر بھیج دیا گیا۔ مراکش کے ایک صحافی استاد الصادق ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو مرکز میں آئے۔ ان کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد جناب محمد ایوب صاحب بھی تھے۔ مراکش کے صحافی ہندوستانی مسلمانوں پر ایک رپورٹ تیار کرنے کے لئے ہندوستان آئے ہیں۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے اس سلسلہ میں تفصیلی گفت گو کی۔ انہیں بتایا گیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا دوسرے ملکوں کا معاملہ۔ یہاں کے مسلمانوں کو اسی طرح ہر قسم کی ترقی کے مواقع ملے ہوئے ہیں جس طرح دوسرے ملکوں میں ہیں۔ تاہم کسی بھی ملک میں ترقی اور کامیابی ہوش مندی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے اور اسی طرح ہندوستان میں بھی۔

ہندی روز نامہ نیو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر اسرار خاں نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا کہ مسجد کے اندر سیاسی سرگرمی اور مسلح سرگرمی کے بارہ میں اسلامی نقطہ نظر کیا ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ مسجد عبادت اور ذکر الہی کے لئے ہوتی ہے۔ چنانچہ مسجد وں میں یہ شعر لکھا رہتا ہے:

مسجد خدا کا گھر ہے عبادت کا کام ہے دنیا کی بات کرنا مطلق حرام ہے۔ دور درشن (نئی دہلی) کی ایک ٹیم نے ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ کی جو اسی دن نیشنل چینل پر دکھائی گئی۔ اس تقریر کا موضوع یہ تھا کہ اسلام میں مسجد کا حکم کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ مسجد ذکر اور عبادت یا اس سے براہ راست تعلق رکھنے والی خالص دینی سرگرمیوں کے لئے ہے۔ مسجد کو سیاست کا مرکز بنانا اسلامی تعلیم کے بالکل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page