Al-Risala · June 1994 · page 57

نماز کی طاقت

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۵۷

نماز کی طاقت

خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایرانی سلطنت سے ٹکراؤ ہوا۔ اس جنگ میں ایران کا سپہ سالار رستم تھا۔ علامہ ابن خلدون نے رستم کے بارہ میں لکھا ہے : كان رستم إذا رأى المسلمين يجتمعون رستم کا حال یہ تھا کہ جب وہ مسلمانوں کو دیکھتا کہ للصلاة يقول: اكل عمرُ كبدي، يُعلمُ الكلاب وہ نماز کے لیے اکٹھا ہورہے ہیں تو وہ کہتا کہ عمر الآداب (مقدمہ ابن خلدون ۱۵۲) میرا کلیجہ کھا گیا۔ وہ کتوں کو آداب سکھا رہا ہے۔ اس زمانہ میں ایران میں مسجدیں نہیں تھیں ۔ مسلم فوجیں میدانوں میں نماز پڑھتی تھیں ۔ لوگ میدان میں جمع ہوتے ۔ قاعدہ کے مطابق ، ایک آدمی بطور امام آگے کھڑا ہوتا ۔ بقیہ تمام لوگ صف باندھ باندھ پیچھے کھڑے ہوجاتے ۔ رستم دیکھتا کہ تمام لوگ منظم ہو کر ایک امام کی پیروی میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ جھکتے ہیں ۔ زمین پر اپنا سر رکھتے ہیں ۔ رستم محسوس کرتا کہ اسلامی خلیفہ کے حکم کے تحت یہ مسلم فوج کو ڈسپلن کی تربیت دی جارہی ہے۔ وہ آداب حیات (rules of behaviour) کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح ڈسپلن اور آداب حیات کی تربیت حاصل کر لیں وہ اتنے طاقت ور ہوجاتے ہیں کہ کوئی بھی انہیں زیر نہیں کر سکتا۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جتنے مسلمان نماز پڑھتے تھے ، آج گنتی کے اعتبار سے اس سے بہت زیادہ لوگ ساری دنیا میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کی نماز کو دیکھ کر قوموں کے اوپر کپکپی طاری ہو جاتی تھی ۔ مگر آج کے مسلمانوں کی نماز میں اس قسم کی انقلابی تاثیر موجود نہیں۔

اس فرق کا سبب یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کی نماز فی الواقع آداب حیات سیکھنے کے ہم معنی تھی ۔ مگر آج کے مسلمانوں کی نماز بے روح رسم کے ہم معنی ہے ۔ بظاہر آج بھی لوگ ایک امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ آج بھی وہ ایک امام کی پیروی میں اٹھتے اور بیٹھتے ہیں ۔ لیکن وہ اگر زندہ فعل تھا تو یہ بے روح رسم ہے ، اور بے روح رسم کبھی زندہ عمل کے برابر نہیں ہوسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page