دانش مندانہ طریقہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۵۸
دانش مندانہ طریقہ
جارجز بیدال (۱۸۹۹-۱۹۸۳) ایک فرانسیسی لیڈر تھا۔ وہ اگرچہ ایک استعمار پسند آدمی تھا۔ تاہم اس کے بعض اقوال بہت دانش مندانہ ہیں۔ اس نے ایک بار کہا کہ کمزور کے پاس ایک زبردست ہتھیار ہوتا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی غلطیاں ہیں جو اپنے باٹھہر میں سوچتے ہیں کہ وہ طاقت ور ہیں : The weak have one weapon; the errors of thos who think they are strong. (George Bidault)
جب کوئی شخص یا گروہ اپنے آپ کو طاقت ور سمجھ لے تو اس کے اندر لازمی طور پر ایک کمزور عنصر پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ اپنی حیثیت کا مبالغہ آمیز اندازہ ہے۔ وہ اپنی بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی بنا پر ایسے اقدامات کرتا ہے جس کے تقاضوں کو قابو میں رکھنا اس کے بس میں نہ ہو۔ اس طرح وہ خود اپنی پیدا کردہ مشکلات میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔
یہ ایک ایسا امکان ہے جو کمزور فریق کے پاس اپنے طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ مگر اس امکان کو واقعی طور پر استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کمزور فریق آخری حد تک صبر کی روش پر قائم رہے۔ وہ خاموش رہ کر فریق ثانی کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرے ۔ وہ صرف اس وقت حرکت میں آئے کہ جب کہ فریق ثانی غلط اقدام کر کے اپنے آپ کو ناقابل عبور مشکلات میں پھنسا چکا ہو ۔
اسلام کی تاریخ میں غزوہ خندق اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ مکہ کے مخالفین اسلام نے اپنی طاقت کے زعم میں آکر ایک بڑا لشکر تیار کیا۔ وہ سفر کر کے مدینہ پہنچے اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ مگر حالات کے اعتبار سے یہ ان کے لیے ایک غلط اقدام تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خندق“ کی صورت میں اعراض کی پالیسی اختیار کی۔ مدینہ سے نکل کر جوابی حملہ کرنے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ مدینہ کے اندر رہ کر آنے والے وقت کا انتظار کرتے رہے۔
یہ طریقہ انتہائی کامیاب رہا۔ آنے والا لمحہ اپنے وقت پر آیا اور حملہ آوروں کو طوفان کے تنکے کی طرح بہا لے گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues