Al-Risala · June 1994 · page 12

غصّہ میں

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۲

غصّہ میں

البتانو (Albetano) یک قدیم رومی فلسفی ہے۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ جو آدمی غصّہ میں ہو وہ ہمیشہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ کر سکتا ہے جتنا کہ فی الواقع وہ کر سکتا ہے : The angry man always thinks he can do more than he can. ایک آدمی شراب کے نشہ میں ہو تو وہ آپے سے باہر ہوتا ہے۔ وہ اپنا سر پتھر سے ٹکرا دیتا ہے، خواہ اس کے نتیجہ میں پتھر نہ ٹوٹے بلکہ خود اس کا سر ٹوٹ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب سے سرمست ہو کر وہ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کر لیتا ہے۔ وہ ایسا اقدام کر بیٹھتا ہے جس کا انجام خود اس کے خلاف نکلنے والا ہو۔

یہی معاملہ غصّہ کا ہے۔ غصّہ کی حالت میں آدمی اپنے آپ میں نہیں ہوتا۔ وہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھ لیتا ہے جتنا کہ واقعہ وہ ہے۔ اس غلط اندازہ کی بنا پر وہ ایسی کارروائی کر گزرتا ہے جو اس کی طاقت سے باہر ہوتی ہے۔ اس نادانی کا احساس اس کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا غصّہ اتر جائے۔ مگر اب غلط اقدام کے نتیجہ میں آنے والی تباہی آچکی ہوتی ہے۔ اس لیے اب صرف افسوس اس کے حصہ میں آنا ہے نہ کہ غلط کارروائی کے انجام سے حفاظت۔

اس کی ایک واضح مثال ہندوستان میں پولیس اور مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے مسلمان پولیس پر غصّہ ہوجاتے ہیں اور اس سے ٹکرا جاتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ مسلمانوں کے ایک طرفہ نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ اس ٹکراؤ کا سبب یہی ہے کہ غصّہ کی وجہ سے مسلمان اپنا اور مسلح پولیس کا فرق سمجھ نہیں پاتے۔ اگر وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچیں تو وہ اپنی طاقت کا صحیح اندازہ کریں گے اور کبھی بھی پولیس سے نہ ٹکرائیں گے۔ مگر غصّہ کی بنا پر وہ اپنی طاقت کا زیادہ اندازہ کر لیتے ہیں اور غیر ضروری طور پر پولیس سے لڑنے لگتے ہیں اور پھر یک طرفہ طور پر نقصان اٹھاتے ہیں۔ غصّہ کی حالت میں کبھی اقدام نہ کیجئے! فریق ثانی کے مقابلہ میں اپنی کارروائی ہمیشہ اس وقت کیجئے جب کہ آپ کا غصّہ ٹھنڈا ہو چکا ہو۔ اس کے بعد آپ بیشتر نقصانات سے اپنے آپ بچ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page