آزادی فکر
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۶۳
آزادی فکر
والٹر لپمان (Walter Lippmann) ۱۸۸۹ء میں نیویارک میں پیدا ہوا، ۱۹۷۴ء میں وہیں اس کی وفات ہوئی۔ اپنی سیاسی اور صحافتی تحریروں کے ذریعہ اس نے شہرت پائی۔ اس کی کتاب رائے عامہ (Public Opinion) بہت مقبول ہوئی ۔ وہ پہلی بار ۱۹۲۲ء میں چھپی تھی۔ اس نے سیاست میں نفسیاتی اپروچ اختیار کرنے پر زور دیا۔
والٹر لپمان اپنے سنجیدہ افکار کی بنا پر کافی پڑھا جاتا تھا۔ اس کا ایک قول یہ ہے کہ ــــــــــ جب تمام لوگ ایک طرح سوچیں تو کوئی بھی شخص بہت زیادہ نہیں سوچتا :
When all think alike, no one thinks very much.
اس قول میں سادہ الفاظ میں بہت اہم بات کہہ دی گئی ہے۔ سوچنے اور جاننے کی باتیں اس دنیا میں بے شمار ہیں۔ اگر لوگوں کو سوچنے کی آزادی ہو تو ہر آدمی مختلف رخ پر سوچے گا۔ اس طرح مجموعی طور پر لوگ بہت زیادہ باتوں کو جان لیں گے۔ اور اگر ایسا ماحول بنا دیا جائے جس میں تمام لوگ ایک ہی رخ پر سوچیں تو ایسے ماحول میں لوگوں کی مجموعی واقفیت بھی بہت کم ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں فکری آزادی ہو ۔ اختلاف اور تنقید کو پسند کیا جاتا ہو، وہاں علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں زندہ انسان ابھرتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں فکری آزادی نہ ہو، جہاں اختلاف اور تنقید کو برا سمجھا جاتا ہو وہاں علم کی ترقی رک جاتی ہے۔ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجاتا ہے، لوگ اس ذہنی پستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کو ایک شخص نے ” ذہنی بونا پن “ سے تعبیر کیا ہے۔ جب لوگوں کو اپنے اپنے انداز پر سوچنے کی آزادی ہوگی تو لازماً اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ لوگ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر تنقید کریں گے۔ اب جو شخص تنقید کی مخالفت کرے وہ سادہ طور پر تنقید کا مخالف نہیں ہے بلکہ وہ ذہنی ارتقاءء کا مخالف ہے۔ یاد رکھیے، اس دنیا میں ہمارے لیے انتخاب (Option) تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے ، بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو بند کریں تو جو چیز باقی رہے گی وہ ذہنی جمود ہوگا نہ کہ بے تنقید ۔
تنقید کے ماحول میں ذہنی ارتقا ہوتا ہے، اور بے تنقید ماحول میں ذہنی جمود۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues