اس کا سبب
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴
اس کا سبب
یہ ایک واقعہ ہے کہ انڈیا کے مسلمان، ہندوؤں کے مقابلہ میں ، تعلیم اور اقتصادیات میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ اس کی توجیہ کرتے ہوئے ایک ہندو دانشور (ٹائمز آف انڈیا، ۲۷ فروری ۱۹۹۳) نے لکھا ہے کہ آزاد ہندوستان میں ہندو خوش حال ہیں، کیوں کہ ان کے مذہب نے جدیدیت اور ترقی کے راستہ کو اپنایا ۔ جب کہ مسلمان پس ماندہ رہ گئے ، کیوں کہ ان کا مذہب صرف ماضی کی طرف دیکھتا رہا :
Hindus have prospered in independent India because their religion adopted the road to modernity and progress, while Muslims remained backward because their religion turned its gaze towards the past. ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذکورہ فرق بجائے خود ایک واقعہ ہے۔ مگر اس کی مذکورہ توجیہ درست نہیں۔ اسلام ہرگز یہ نہیں سکھاتا کہ تم پیچھے کی طرف دیکھتے رہو، اور ترقی کی باتوں کو نظر انداز کر دو۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سبب ان کے نااہل لیڈر ہیں، نہ کہ اسلام۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب نئی ترقیوں کا ظہور ہوا تو عین اس وقت ایک اور واقعہ پیش آیا، وہ یہ کہ مسلمانوں نے اپنا سیاسی اقتدار اور تہذیبی برتری کھودی۔ مغربی قومیں جو نئی ترقیوں کو لائی تھیں، وہی وہ قومیں بھی تھیں جنہوں نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو مغلوب کر کے ان کے اوپر اپنا سیاسی اور تہذیبی غلبہ قائم کر لیا تھا۔
ہمارے اس دور کے لیڈروں نے ساری دنیا میں مغربی قوموں کے خلاف سیاسی تحریکیں کھڑی کر دیں۔ انھوں نے خود بھی مغربی قوموں سے نفرت کی اور مسلمانوں کو بھی ان کے خلاف نفرت میں مبتلا کر دیا۔ یہی نفرت وہ چیز ہے جو مسلمانوں کے لیے جدید ترقیات کے میدان میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سبب اسلام نہیں ہے، بلکہ وہ مصنوعی نفرت ہے جو ہمارے نا عاقبت اندیش لیڈروں نے مسلمانوں کے اندر پیدا کی۔ یہی نفرت اس میں رکاوٹ بن گئی کہ مسلمان مغربی قوموں کو اعتدال وانصاف کی نظر سے دیکھیں اور ان کی طرف سے آنے والی ترقیاتی چیزوں کو اختیار کر لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues