اس کا سبب
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵
یہ انسان
بلیز پاسکل ایک فرانسیسی فلسفی اور سائنس داں ہے۔ وہ ۱۶۲۳ میں پیدا ہوا، اور ۱۶۶۲ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ وسیع خلا کے اعتبار سے کائنات میرا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایٹم کی مانند مجھ کو نگلے ہوئے ہے۔ مگر خیال کے اعتبار سے میں اس کا احاطہ کیے ہوئے ہوں:
By space the universe encompasses and swallows me as an atom; by thought I encompass it. (Blaise Pascal)
انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو متضاد صفت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایک طرف اس کا ذہن ہے۔ اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے انسان اپنے آپ کو لامحدود پاتا ہے۔ وہ سب کچھ سوچ سکتا ہے۔ ہر طرف اپنا خیال دوڑا سکتا ہے ، اس کے خیال پر بظاہر یہاں کوئی حد بندی نہیں۔ مگر اپنے جسمانی وجود کے اعتبار سے انسان انتہائی محدود ہے۔ وہ بے شمار قسم کی محدودیتوں میں بندھا ہوا ہے، اور سب سے بڑی محدودیت جس سے انسان دوچار ہوتا ہے وہ موت ہے۔ موت آدمی کی ہر بڑائی کی نفی کر دیتی ہے۔
یہی وہ چیز ہے جس میں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ آدمی کو عظمتوں کے درمیان اپنے بے عظمت ہونے کا اعتراف کرنا ہے۔ اس کو لامحدود کی فضا سے نکل کر اپنے محدود ہونے کا علم حاصل کرنا ہے۔ اس کو آزادی کے ماحول میں پابندی کو قبول کرنا ہے۔
انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس کا امتحان میں پورا ہونا یہ ہے کہ وہ فکری وسعت کے باوجود اپنی عملی محدودیت کو جانے۔ وہ اپنے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا ہونے سے بچائے۔ وہ اپنے آزاد ارادہ کو حقیقت پسندی کے دائرہ میں استعمال کرے۔
جانور کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا جتنا عمل ہے اتناہی ان کی سوچ۔ اس لئے جانوروں کا معاملہ زندہ مشین جیسا ہے۔ مگر انسان کی سوچ کی حد اس کے عمل کی حد سے بہت زیادہ ہے۔ سوچ اور عمل کے اس فرق میں توازن کو پا لینے ہی کا نام اعلیٰ انسانیت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues