Al-Risala · June 1994 · page 16

صبر اور دعوت

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶

صبر اور دعوت

صبر داعی کا اخلاق ہے۔ صبر ہی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ کوئی شخص دعوتی مواقع کو استعمال کر سکے۔ جو آدمی ناخوش گوار باتوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہ ہو وہ اس دنیا میں کبھی داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

سرجیمز جینز مشہور انگریز سائنسداں ہے۔ اس نے طبیعیات اور فلسفہ (Physics & philosophy) کے نام سے ۱۹۱۴ میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کے دیباچہ میں اس نے اعتراف کیا کہ کائنات کے سائنسی مطالعہ نے ہم کو جہاں پہنچایا ہے اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے۔ بشر طیکہ ہم اس کا ہینڈل حاصل کر سکیں :

It almost seems to suggest that the door may be unlocked, if only we could find the handle. (p. 216)

انگریز سائنس داں نے جس وقت یہ سطریں لکھی ہیں عین اس وقت ساری دنیا کے مسلمان انگریزوں کی سیاسی بالادستی پر بھڑک کر ان کے خلاف خوں آشام لڑائی میں مصروف تھے۔ وہ انگریز کو صرف ایک قابلِ نفرت دشمن کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ اگر وہ انگریز کی سیاسی بالادستی پر وقتی طور پر صبر کر لیتے تو اچانک انہیں دکھائی دیتا کہ انگریز قوم حقیقت کے دروازے کھولنے کے لیے جس ”ہینڈل“ کی تلاش کر رہی ہے وہ ہینڈل ان کے پاس قرآن کی صورت میں موجود ہے۔

اس واقفیت کی صورت میں انگریز کے بارے میں ان کی پوری نفسیات بدل جاتی۔ اب وہ انگریز کو اپناعد و سمجھتے نہ کہ اپنا حریف۔ اس کے بعد وہ انگریز کی ہلاکت چاہنے کے بجائے اس کی ہدایت چاہنے لگتے۔ وہ انگریز کی اصلاح کے لیے دعا کرتے اور اس کے خیر خواہ بن کر اس سے یہ کہتے کہ حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تم کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ تمہارے خدا نے پیشگی طور پر قرآن کی صورت میں تمہارے لیے بھیج دیا ہے۔

صبر دعوت کی لازمی شرط ہے۔ جہاں صبر نہ ہو وہاں دعوت بھی یقینی طور پر نہیں ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page