Al-Risala · June 1994 · page 18

مسلمان اور جدید تحدیات

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸

دور میں داخل ہو چکی ہوں گی۔ اس طرح ہم بدستور پیچھے رہیں گے اور ہمارا اصل مسئلہ اس کے بعد بھی غیر حل شدہ پڑا رہے گا۔

آج مسلمان جس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ اور سیاسی، اقتصادی، صنعتی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو تحدیات ان کو درپیش ہیں، وہ کوئی نئی صورتِ حال نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات کا تجربہ امت مسلمہ کی طویل تاریخ میں بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتا رہا ہے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ہر خطرہ یا ہر چیلنج سے گزرنے کے بعد امت پہلے سے زیادہ طاقت ور اور مستحکم ہوگئی ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے امت کو جب اس قسم کے مسائل اور تحدیات سے دوچار ہونا پڑا تو کیا صورت پیش آئی اور کس طرح اس کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ کامیابی اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ تیرھویں صدی عیسوی کے وسط میں تاتاریوں نے عالمِ اسلام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ وحشی اور خوں خوار تاتاریوں کی طاقت بظاہر ناقابل شکست بنی ہوئی تھی۔ مگر اس کے بعد اسلام کی دعوتی طاقت ظاہر ہوئی ۔ اس نے تاتاری قوم کو مسخر کر لیا۔ ایک مستشرق نے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے : The religion of the Muslims had conquered where their arms had failed. (p. 488)

آج مسلمانوں کو اسلام کی اسی دعوتی طاقت کو لے کر اٹھنا ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکیں تو یقینی طور پر ان کے حالات بدل جائیں گے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر ہمارے دشمن نظر آتے ہیں وہ ہمارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے (حم السجدہ : ۳۴)

موجودہ زمانہ میں اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ ہوا ہے کہ مذاہب کے علمی مطالعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔ جبکہ اسلام ہر علمی جانچ میں معتبر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح گویا اسلام اس حیثیت میں ہے کہ وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کرسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page