Al-Risala · June 1994 · page 19

مسلمان اور جدید تحدیات

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

جہاں تک انسانی ساخت کے آزموں کا تعلق ہے، وہ بھی سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں، اس سلسلہ کا آخری فیصلہ کن واقعہ کمیونسٹ ایمپائر کا ٹوٹنا ہے۔ کمیونسٹ ایمپائر کی موجودگی میں دنیا اس غلط فہمی میں تھی کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیالوجی موجود ہے۔ مگر ۱۹۹۱ء میں جب کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ کر گر گئی تو اس بھرم کا بھی خاتمہ ہو گیا اب ساری دنیا میں ایک فکری اور نظریاتی خلا (ideological vacuum) ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔

اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں اور اس کے ذریعہ سے اقوام کی فکری تسخیر کر کے اسلام کی نئی تاریخ بنائیں ۔

اب ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی تاریخ کے اس تجربہ کو نئے حالات میں دہرائیں جو بار بار اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ یعنی ہم موجودہ مسائل اور تحدیات کا مقابلہ اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ کریں۔ مسلمان اپنی طویل تاریخ میں ہمیشہ دعوت کی طاقت سے فتح یاب ہوئے ہیں، اور آج بھی یقینی طور پر اسی کے ذریعہ وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔

دعوت کی تسخیریت کاراز اس کی نفع بخشی کی صفت ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے نافع ہو ، اس کو لوگوں کے درمیان قبولیت اور جاؤ ملے ۔ اسلام سب سے بڑی نفع بخش چیز ہے۔ وہ انسان کی تلاش حق کا جواب ہے ، وہ انسان کو سچا نظریہ حیات دیتا ہے۔ وہ انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ وہ انسان کو اس شاہراہ کی دریافت کراتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا سے لے کر آخرت تک محفوظ سفر طے کر سکے۔

بلاشبہ اس سے زیادہ نفع بخش اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے زیادہ قابل قبول چیز بھی انسان کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

اسلام کا یہ تمیزی پہلو ایک معلوم اور مشہور حقیقت ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ تحقیقی مطالعہ کا موقع نہ ہو تو آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ ریاض سے نکلنے والے عربی ہفت روزہ الدعوہ کو یامکہ سے نکلنے والے اخبار العالم الاسلامی کو پڑھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے تقریبا ہر شمارہ میں اسلام کی دعوتی تسخیر کی خبریں موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page